جاکر کپڑے کو چاندی یا کسی اور چیز کے بدلے بیچ دیا کرو۔‘‘ پھر فرمایا:’’فَاِذَا قَبَضْتَهُ وَكَانَ لَكَ بَیْعُهُ فَاهْضُمْ مَا شِئْتَ، وَخُذْ وَرْقًا اِنْ شِئْتَ یعنی جب تم کسی چیز پر مکمل قبضہ کرلو اور اس کی بیع تمہارے لیے ہوجائے تو اس میں سے جو چاہے چھوڑ دو اور جتنی چاہے چاندی لے لو۔‘‘(1)
سود اور جس میں سود کا شبہ ہو اس کو چھوڑ دو :
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’سود کو چھوڑو اور جس میں سود کا شبہ ہو، اُسے بھی چھوڑ دو۔‘‘(2)
سود جیسی گندی بیماری سے اپنے آپ کو بچائیے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فی زمانہ جہاں ہمارا معاشرہ بے شمار برائیوں میں مبتلا ہے وہیں سود جیسی گندی بیماری بھی اب تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے، حالانکہ اس بیماری میں سراسرنقصان ہی نقصان ہے، سود کھانا ایسے ہے جیسے اپنی ماں سے زنا کرنا، سود سے پاگل پن پھیلتا ہے، سودی کاروبار میں شرکت باعث لعنت ہے، سودخود کی اُخروی سزا یہ ہے کہ اُس کا پیٹ کمرے جیسا بڑا ہوگااور اُس میں سانپ بھردیے جائیں گے، سود خور کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے اعلان جنگ ہے، سودخور حاسد، بے رحم اور مال کا حریص یعنی لالچی بن جاتاہے، سود خور کا نہ تو کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ ہی کوئی نفل، سود خور کا مال اُسے کوئی نفع نہیں دیتا، سود سے معیشت تباہ وبرباد ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو سود جیسی گندی بیماری سے بچائیے۔(3)یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں سود جیسی نحوست سے محفوظ فرما ، ہمیں حلال ،طیب روزی کمانے اور کھانے کی توفیق عطا فرما، ہمیں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں عطا فرما۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف عبد الرزاق، کتاب البیوع، باب السلف فی الحیوان ، ج۸، ۹۷، حدیث:۱۴۶۴۶۔
2…ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب التغلیظ فی الریا، ج۳، ص۷۳، حدیث:۲۲۷۶ مختصرا۔
3…سود، اس کی نحوستوں اور اس سے بچنے کے طریقے جاننے کے لیےدعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۹۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’سود اور اس کا علاج‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔