Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
243 - 831
 المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی سود کی حرمت اور اس کے احکام سے متعلق کئی احادیث مبارکہ مروی ہیں  ، چند احادیث پیش خدمت ہیں  ۔
فاروقِ اعظم اور سود کے بارے میں   علم :
حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّكُمْ تَزْعُمُوْنَ اَنَّا لَا نَعْلَمُ اَبْوَابَ الرِّبَا یعنی تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ ہم ربا کے مسائل کے بارے میں   کچھ نہیں   جانتے ۔‘‘
٭…’’وَلِاَنْ اَكُوْنَ اَعْلَمَهَا اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ يَكُوْنَ لِيْ مِثْلَ مِصْرَ وَكَوْرِهَا حالانکہ ربا کے مسائل جاننا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں   شہر مصر یا اس کے اطراف کا مالک بن جاؤں  ۔‘‘
٭…’’ وَمِنَ الْاُمُوْرِ اُمُوْرٌ لَا يَكِدْنَ يَخْفِيْنَ عَلٰى اَحَدٍ اور سود کے مسائل تو ایسے بدیہی ہیں   کہ وہ کسی پر مخفی نہیں   ہیں  ۔‘‘
٭…’’هُوَ اَنْ يَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْوَرَقِ نَسِيْئًا وَاَنْ يَبْتَاعَ الثَّمَرَةَ وَهِيَ مَعَصْفَرَةٌ لَمْ تُطَبْ مثلا سونے کو چاندی کے بدلے ادھار پر بیچنا اور پھلوں   کی بیع کرنا اس حال میں   کہ وہ پیلے ہوں   ، خشک نہ ہوئے ہوں   ۔‘‘(1)
سود کے مختلف مسائل اور فاروقِ اعظم:
حضرت سیِّدُنا محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چاندی کی چاندی کے ساتھ بیع سے منع فرمایا مگر یہ کہ وہ برابر برابر ہو۔‘‘حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یا حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:’’اِنَّهَا تُزَيَّفُ عَلَيْنَا الْاَوْرَاقُ فَنُعْطِي الْخَبِيْثَ وَنَأْخُذُ الطَّيِّبَ یعنی (اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ !)ا س طرح تو ہمیں   کھوٹی چاندی دی جائے گی ، ہم تو کھوٹے سکے دیتے ہیں   اور عمدہ لیتے ہیں  ۔‘‘امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’لَا تَفْعَلُوْا وَلٰكِنْ اِنْطَلِقْ اِلَى الْبَقِيْعِ فَبِعْ  ثَوْبَکَ بِوَرْقٍ اَوْ عَرْضٍ یعنی ایسا نہ کیا کرو بلکہ بقیع کے بازار میں   
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف عبد الرزاق، کتاب البیوع، باب السلف فی الحیوان ، ج۸،ص ۲۰، حدیث:۱۴۲۳۸۔