روایت کرتے ہیں کہ میں نے دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ : ’’ذَاكِرُ اللہِ فِيْ رَمْضَانَ يُغْفَرُ لَهُ وَ سَائِلُ اللہِ فِيْهِ لَا يُخَيَّبُ یعنی رمضان المبارک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والے کی مغفرت کردی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں سوال کرنے والے کو ناکام نہیں لوٹایا جاتا۔‘‘(1)
(18)سلام ومصافحہ کرنے والوں پر رحمتوں کا نزول:
حضرت سیِّدُنا ابو عثمان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اِذَا الْتَقَى الْمَسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا نَزَلَتْ عَلَيْهِمَا مِائَةُ رَحْمَةٍ لِلْبَادِیْ مِنْهُمَا تِسْعُوْنَ وَ لِلْمُصَافِحِ عَشَرَةٌیعنی جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور آپس میں مصافحہ کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر سو ۱۰۰رحمتیں نازل فرماتا ہے، نوے ۹۰رحمتیں سلام میں پہل کرنے والے پر اور دس ۱۰رحمتیں مصافحہ کرنے والے پر۔‘‘(2)
(19)تین آدمی سفر کریں تو ایک کو نگران بنالیں :
حضرت سیِّدُنا زید بن وھب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فِيْ سَفَرٍ فَاَمِّرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدَكُمْ ذَاكَ اَمِيْرٌ اَمَرَهُ رَسُوْلُ اللہیعنی جب تم میں کوئی تین افراد ایک ساتھ سفر کریں تو وہ اپنے میں سے ایک کو اپنا نگران مقرر کرلیں کہ اس بات کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم ارشاد فرمایا۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم اور سود کی حرمت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ربایعنی سود حرام قطعی ہے اس کی حرمت کا منکر کافر ہے اور حرام سمجھ کر جواس کا مرتکب ہو وہ فاسق و مردودالشہادۃ ہے،سود کی حرمت قرآن واحادیث دونوں سے ثابت ہے۔سود لینے اوردینےوالوں سب پر لعنت کی گئی ہے اور احادیث مبارکہ میں سود کو اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے سے بھی بدتر فرمایا گیاہے۔ امیر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصیام، فضائل شھر رمضان، ج۳، ص۳۱۱، حدیث:۳۶۲۷۔
2…شعب الایمان للبیھقی، باب فی مقاربۃ۔۔۔الخ، فصل فی المصافحۃ۔۔۔الخ، ج۶، ص۴۷۶، حدیث:۸۹۶۱۔
3…مسند بزار، مما روی زید بن وھب، ج۱، ص۴۶۲، حدیث:۳۲۹۔