حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہسرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامًا ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْاِفْلَاسِ یعنی جو شخص مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے خوراک کی ذخیرہ اندوزی کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جذام کے مرض اور مفلسی میں مبتلا فرمادے گا۔‘‘(1)
(12)تمہیں پرندوں کی طرح رزق دیا جائے گا:
حضرت سیِّدُنا ابو تمیم جیشانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’لَوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ كَمَا يُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًایعنی اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر جیسا توکل کرنے کا حق ہے ویسا توکل کرو تو وہ تمہیں ایسے رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں کو رزق عطا فرماتا ہے کہ وہ صبح بھوکے پیاسے جاتے ہیں لیکن جب شام کو گھر لوٹتے ہیں تو ان کا پیٹ بھرا ہوتاہے۔‘‘(2)
(13)جو جمعہ کے لیے آئے غسل کرکے آئے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ یعنی تم میں سے جوبھی جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے اسے چاہیے کہ وہ غسل کرلے۔‘‘(3)
(14)انبیاء کرام کی وراثت نہیں ہوتی:
حضرت سیِّدُنا مالک بن اوس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب الحکرۃ والجلب، ج۳، ص۱۵، حدیث:۲۱۵۵۔
2…ترمذی، کتاب الزھد عن رسول اللہ، باب فی التوکل علی اللہ، ج۴، ص۱۵۴، حدیث:۲۳۵۱۔
3…سنن کبری، کتاب الجمعۃ، ایجاب الغسل۔۔۔الخ، ج۱، ص۵۲۱، حدیث:۱۶۷۵۔