Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
24 - 831
٭…تمام دعائیہ عبارات کا رسم الخط ’’اَلْمُصْحَفْ ‘‘ رکھا گیا ہے۔
٭…مشکل الفاظ کے معانی کو ہلالین ’’(…)‘‘میں   لکھا گیا ہے۔
٭…تخاریج کا رسم الخط عربی ، اردو وفارسی عبارت سے جدا رکھا گیا ہے۔
٭… ہر باب کے شروع میں   ایک علیحدہ صفحہ دیا گیا ہے جس میں   باب نمبر، باب کا نام اور اس کے تحت آنے والے تمام موضوعات کی تفصیل دی گئی ہے ، نیز باب کا نام تمام متعلقہ صفحات کے اوپر بھی دے دیا گیا ہے۔
٭…کتاب کی اِجمالی وتفصیلی دونوں   طرح کی فہرستیں   بنائی گئیں   ہیں  ، اجمالی فہرست میں   تمام ابواب اور ان کے تحت آنے والی جلی سرخیاں   (Main Headings)کو ذکر کیا گیا ہے، جبکہ تفصیلی فہرست میں   ابواب اور جلی سرخیوں   سمیت تمام خفی سرخیوں   (Sub Headings)کو بھی ذکر کیا گیا ہےنیز اِجمالی فہرست کتاب کے شروع میں   اور تفصیلی فہرست آخر میں   دی گئی ہے۔
٭…اِس کتاب میں   حیاتِ فاروق اعظم کو کم وبیش300جلی سرخیوں  (Main Headings) اور1100خفی سرخیوں  (Sub Headings) کے ذریعے نہایت ہی اَحسن اَنداز میں   بیان کیا گیاہے۔
٭…اِس کتاب کو دارُالافتاء اہلسنت کے مدنی علماء کرام دَامَتْ فُیُوْضُھُم نے شرعی حوالے سے مقدور بھرملاحظہ کرلیا ہے۔
(10)…فیضان فاروق اعظم کی دو جلدیں  :
شعبہ فیضان صحابہ واہل بیت میں   اَوّلاً عشرہ مبشرہ میں   سے چاروں   خلفائے راشدین کے علاوہ بقیہ چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت طیبہ پر کام مکمل کیا گیا جو چھ مختلف رسائل کی صورت میں   چھوٹے صفحے (A5)پر تھا۔ فیضانِ صدیق اکبر پر بھی اَوّلاًچھوٹے صفحے ہی میں   کام شروع کیا گیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے صفحات کی تعداد ایک ہزار ۱۰۰۰ سے تجاوز کرگئی لہٰذا اُسے بڑے صفحے (A4) میں   تبدیل کردیا گیا جو کم وبیش سات سو بیس ۷۲۰صفحات بن گئے۔ فیضانِ صدیق اکبر کے بعد جب فیضانِ فاروق اعظم پر کام شروع کیا گیا تو یہی خیال تھا کہ اس مبارک کتاب کے بھی زیادہ سے زیادہ آٹھ سو ۸۰۰بڑے صفحات (A4)بنیں   گے، لیکن مواد جمع کرنے، مرتب کرنے اور تخریج کرنے کے بعد ظاہر ہوا کہ