Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
238 - 831
(5)رسول اللہپانچ چیزوں   سے پناہ مانگتے:
حضرت سیِّدُنا عمرو بن میمون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’كَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَ سُوءِ الْعُمُرِ وَفِتْنَۃِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ یعنی نورکے پیکر، تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پانچ چیزوں   سے پناہ مانگا کرتے تھے: (۱)بزدلی سے(۲) بخل سے(۳) بڑھاپے کی وجہ سے عقل کے فساد سے (۴) دل کے فتنےسے(یعنی شیطانی وساوس اور گناہوں   کے خیالات وغیرہ) اور (۵)عذاب قبر سے۔‘‘(1)
(6)اللہ کی قسم اٹھاؤ یا خاموش ہو جاؤ:
ایک بار حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سواری پر سوار تھے اور اپنے والد کی قسم اٹھارہے تھے تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اللہَ یَنْھَاكُمْ اَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ اَوْ لِیَسْكُتْ یعنی بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات سے منع فرماتا ہے کہ تم اپنے آباء کی قسم اٹھاؤ تو جب کبھی قسم اٹھانی ہوتو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم اٹھاؤ یا خاموش ہو جاؤ۔‘‘(2)
(7)جنت کے آٹھوں   دروازے کھول دیے جاتے ہیں  :
حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر جہنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّاُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اِلَّا فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ اَيِّهَا شَاءَ یعنی جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے، پھر کلمہ شہادت پڑھے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں   دروازے کھول دیے جاتے ہیں   جس سے چاہے داخل ہو۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابو داود، کتاب الوتر، باب فی الاستعاذۃ، ج۲، ص۱۲۸، حدیث:۱۵۳۹۔
2…ابو داود، کتاب الایمان والنذور، باب فی کراھیۃ الحلف بالاباء، ج۳، ص۳۰۰، حدیث:۳۲۴۹۔
3… ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ وسننھا، باب ما یقال بعد الوضوء، ج۱، ص۲۷۳، حدیث:۴۷۰۔