Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
237 - 831
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بہتر جانتے ہیں  ۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’فَاِنَّہُ جِبْرِیْلُ اَتَاكُمْ یُعَلِّمُكُمْ دِیْنَكُمْ یعنی یہ جبریل امین تھے جو تمہارے پاس تمہیں   دین سکھانے آئے تھے۔‘‘(1)
(3) رسول اللہ نے تمام حالات کی خبر دے دی:
حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں   نے حضرت امیر المومنین عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ فرماتے سنا کہ : ’’قَامَ فِیْنَاالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَاَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتّٰی دَخَلَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ مَنَازِلَهُمْ وَاَھْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ یعنی ایک بار رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہمارے درمیان ایک جگہ کھڑے ہوئے اور آپ نے مخلوق کی پیدائش سے ہرچیز کی خبر دینا شروع کی یہاں   تک کہ جنتیوں   کے جنت میں   جانے اور جہنمیوں   کے جہنم میں   جانے کی خبر تک دے دی۔‘‘ مزید فرماتے ہیں  : ’’حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَہُ وَنَسِیُہُ مَنْ نَسِیَہ ُیعنی ہم میں   سے جس نے یاد رکھا سو اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا سو وہ بھول گیا۔‘‘(2)
(4)چھوٹی سے چھوٹی نعمت پر بھی شکر:
حضرت سيدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہِ عالیشان ميں   حاضر ہو کر عرض کی: ’’يا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! ميں   نے فلاں   کو شکر ادا کرتے ديکھا وہ کہہ رہا تھاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اسےدودينار عطافرمائے ہيں  ۔‘‘ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمايا:’’مگر ميں   نے فلاں   کو ایک سے سو کے درمیان عطا فرمائے اس نے نہ شکر ادا کيا نہ ہی يہ بات کسی سےکہی، تم ميں   سےکوئی شخص ميرے پاس اپنی حاجت بغل ميں   دبا کر نکلتا ہے حالانکہ وہ آگ ہوتی ہے۔‘‘ ميں   نے عرض کی :’’يارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  انہيں   کيوں   عطا فرماتے ہيں  ؟‘‘تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :’’وہ مانگنے سے باز نہیں   آتےاور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ ميں   بخل کو ناپسند فرماتا ہے۔‘‘ (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الایمان، بیان الایمان والاسلام والاحسان، ص۲۱، حدیث:۱۔
2…بخاری،کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی قول اﷲ وھو الذی یبدء الخلق۔۔۔ الخ،ج۲، ص۳۷۵، حدیث:۳۱۹۲۔
3…صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ، ذکر الاخبار۔۔۔الخ، ج۵، ص۱۷۴، حدیث:۳۴۰۵۔