عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ نے سچ فرمایا۔‘‘سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیسا شخص ہے جو خود ہی سوال کرتا ہے اور خود ہی تصدیق بھی کرتا ہے۔
٭…اس نے دوسرا سوال کرتے ہوئے عرض کیا: ’’فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔‘‘ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ یعنی ایمان یہ ہے کہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن اور اچھی بری ہر تقدیر پر ایمان لاؤ۔‘‘
٭…اس نے پھر عرض کیا: ’’فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔‘‘رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَنْ تَعْبُدَ اللہَ كَاَنَّكَ تَرَاہُ فَاِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاكَ یعنی احسان یہ ہے کہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس طرح عبادت کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘
٭… اس نے پھر عرض کیا: ’’فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’مَا الْمَسْئُولُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ یعنی مسئول سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ۔‘‘
٭…اس نے پھر عرض کیا: ’’فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ اَمَارَتِهَا یعنی پھر قیامت کی کچھ نشانیوں کے بارے میں ہی بتا دیجئے۔‘‘ارشاد فرمایا: ’’اَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّتَھَا وَاَنْ تَرَى الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَاءَ الشَّاءِ یَتَطَاوَلُونَ فِی الْبُنْيَانِ یعنی قیامت کی نشانیوں میں سے چند نشانیاں یہ ہیں کہ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور ننگے پاؤں چلنے والے بڑی بڑی عمارتوں میں فخر کریں گے۔‘‘
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ شخص چلا گیا، میں وہیں ٹھہرا رہا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے استفسار فرمایا:’’یَا عُمَرُ اَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ یعنی اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوالات کرنے والا شخص کون تھا؟‘‘ میں نے عرض کیا:’’اَللہُ وَرَسُولُہُ اَعْلَمُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی