Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
235 - 831
روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں   نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا: ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيیَّاتِ وَاِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوْاِلٰی اِمْرَاَۃٍ یَنْكِحُھَا فَهِجْرَتُہُ اِلَی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں   پر ہے اور ہرایک کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی تو پس جس نے دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی، یا عورت سے نکاح کرنے کےلیے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی نیت کی۔‘‘(1)	
(2) حدیث جبریل، ارکان اسلام :
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایاکہ ایک دن ہم بارگاہِ رسالت میں   حاضر تھے کہ اچانک ایک ایسا شخص آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے، اس کے بالوں   کا رنگ کالا سیاہ تھا، البتہ اس کے چہرے پر کسی قسم کے سفر وغیرہ کے کوئی آثار نہ تھے اور ہم میں   سے کوئی بھی اسے اس حلئے سے نہیں   جانتا تھا۔وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بالکل سامنے آکر اس طرح بیٹھ گیا کہ اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مبارک گھٹنوں   کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھوں   کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مبارک رانوں   پر رکھ لیا۔
٭… پھر عرض کرنے لگا: ’’اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! مجھے اسلام کے بارے میں   بتائیے۔‘‘رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّكَاۃَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا یعنی اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور بے شک محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں   اور نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرواگر اس کی طرف جانے کی استطاعت رکھتے ہو۔‘‘ یہ سن کر اس نے کہا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف۔۔۔الخ، ج۱، ص۵، حدیث:۱۔