Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
232 - 831
 عَنْہنے فرمایا:’’کس عمل کی مثال بیان کی گئی ہے؟‘‘پھر خود ہی ارشاد فرمایا: ’’لِرَجُلٍ غَنِیٍّ یَعْمَلُ بِطَاعَۃِ اللہِ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ بَعَثَ اللہُ لَہُ الشَّيْطَانَ فَعَمِلَ بِالْمَعَاصِیْ حَتّٰی اَغْرَقَ اَعْمَالَہُ یعنی ایسے غنی شخص کی مثال بیان کی گئی ہے جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں   عمل کرتا رہتا ہے پھر رب عَزَّ وَجَلَّ  اس کے پاس ایک شیطان کو بھیجتا ہے، پھر شیطان اس سے گناہ کرواکے اس کے اعمال برباد کردیتا ہے۔‘‘ (1)
فاروقِ اعظم اور علم الحدیث
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہِ اقدس میں   حاضر رہا کرتے تھے اس لیے احادیث مبارکہ کا کثیر خزانہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سینے میں   موجود تھا لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کوئی بھی بات بغیر تصدیق کے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی طرف منسوب کرنے پر سختی فرماتےتھے۔ کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پیش نظر خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا یہ فرمان مبارک تھا کہ ’’مَنْ كَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَ ہُ  مِنَ النَّارِ یعنی جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔‘‘(2) یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بہت ہی کم احادیث مروی ہیں  ۔ چنانچہ حضرت امام ابو زکریایحییٰ بن شرف نووی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں   کہ: ’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے(کم وبیش) 539احادیث روایت کی ہیں  ۔جن میں   سے چھبیس احادیث مبارکہ پر امام بخاری وامام مسلم رَحِمَہُمَا اللّٰہ کا اتفاق ہے یعنی ان دونوں   نے ان کو بیان فرمایا ہے، جبکہ ان کے علاوہ چونتیس احادیث مبارکہ فقط امام بخاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے اور اکیس احادیث مبارکہ امام مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے بیان فرمائی ہیں  ۔(3)
اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، امام اہلسنت، مجددین وملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ ایود۔۔۔الخ، ج۳، ص۱۸۵، حدیث: ۴۵۳۸۔
2…بخاری، کتاب العلم، باب اثم من۔۔۔الخ، ج۱، ص۵۷، حدیث:۱۰۷۔
3…تھذیب الاسماء ،  عمر بن الخطاب، ج۲، ص۳۲۵۔