Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
231 - 831
حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس آیت مبارکہ میں   ’’قرض حسنہ‘‘ کی تفسیر ’’النَّفْقَۃُ فِیْ سَبِيیْلِ اللہِ یعنی راہ خدا میں   خرچ کرنا ‘‘سے کی۔(1)
(8)…ظلم سے مراد شرک ہے:
(اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲)) (پ۷، الانعام:۸۲) ترجمۂ کنزالایمان: ’’وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں   کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں   کے لئے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں  ۔‘‘امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس آیت مبارکہ میں   ظلم کی تفسیر شرک سے فرمائی۔‘‘(2)
(9)…لوگوں   سے آیت کی تفسیر کے متعلق استفسار:
(اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ-) (پ۳، البقرۃ :۲۶۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’کیا تم میں   کوئی اسے پسند رکھے گا کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں   اور انگوروں   کا جس کے نیچے ندیاں   بہتیں   اس کے لئے ۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا عبید بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں   سے استفسار فرمایا: ’’فِیْمَ تَرَوْنَ ھٰذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ یعنی قرآن پاک میں   جو یہ آیت مبارکہ ہے کس چیز کے بارے میں   نازل ہوئی ہے؟‘‘لوگوں   نے عرض کیا: ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہتر جانتاہے۔‘‘آپ نے فرمایا: ’’بس یہ بتاؤ کہ جانتے ہو یا نہیں  ؟‘‘ تو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا: ’’فِیْ نَفْسِیْ مِنْهَا شَیْءٌ  یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِيیْنَ یعنی اے امیر المؤمنین! اس حوالے سے مجھے کچھ معلوم ہے۔‘‘ فرمایا: ’’یَا ابْنَ اَخِیْ قُلْ وَلَا تَحْقِرْ نَفْسَكَ یعنی اے بھتیجے! بتاؤ اور اپنے آپ کو حقیر مت سمجھو۔‘‘سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا: ’’حضور! اس آیت مبارکہ میں   کسی عمل کی مثال بیان کی گئی ہے۔‘‘ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب فضل الجھاد، ما ذکر فی فضل الجھاد۔۔۔ الخ، ج۱۰، ص۳۳۶، حدیث: ۱۹۸۴۳۔
2…کنزالعمال،کتاب الاذکار، فصل فی التفسیر، الجزء:۲، ج۱، ص۱۷۴، حدیث:۴۳۶۴۔