ہے: ٭مواد جمع کرتے وقت کمپوزنگ کے بعد۔ ٭کتاب کو مرتب کرنے کے بعد۔ ٭مرتب شدہ مواد کی تخریج کے دوران۔٭عربی یا اُردو عبارات کے تقابل کے وقت۔٭اَغلاط کی تصحیح کرنے کے بعد۔٭’’تنظیمی مفتش‘‘ کی طرف سے تفتیش کے ساتھ۔٭’’شرعی مفتش‘‘کی طرف سے دورانِ تفتیش۔٭تنظیمی وشرعی تفتیش کی اَغلاط کی تصحیح کے بعد۔ ٭ مکتبۃ المدینہ پر طباعت کے لیے بھیجنےسے قبل فائنل فارمیشن کے بعد۔٭کورل ڈرا پر مکمل کتاب کی پیسٹنگ کے بعد ۔٭ علمیہ کے فائنل پروف ریڈر سے کورل ڈرا پر مکمل کتاب کی پیسٹنگ کے بعد بھی پوری کتاب کی بالاستیعاب (مکمل لفظ بہ لفظ)پروف ریڈنگ کی گئی ہے۔
(9)…کتاب کی فارمیشن:
کتاب کی بہترین طباعت بھی قاری کے ذوقِ مطالعہ میں اِضافے کا ایک بہت بڑا سبب ہے، بہتر طباعت کے ساتھ ساتھ اگر کتاب کے ابواب وغیرہ کی اَحسن انداز میں فارمیشن کی جائے تو کتاب کا ظاہری حسن مزید نکھر جاتا ہے۔ ’’فیضانِ فاروقِ اعظم‘‘ کی فارمیشن کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیا ہے:
٭…عبارت کے معانی ومفاہیم سمجھنے کے لیے ’’علاماتِ ترقیم‘‘ کا خاص اِہتمام کیا گیا ہے۔
٭…کئی مقامات پر ایک ہی موضوع کے تحت آنے والی مختلف باتوں کی نمبرنگ کردی گئی ہے۔
٭…جلی سرخیوں (Main Headings)اور خفی سرخیوں (Sub Headings)میں امتیاز کرتے ہوئے علیحدہ علیحدہ رسم الخط میں لکھا گیا ہے۔
٭…عربی عبارات کو اِعراب سمیت عربی رسم الخط ’’قمر‘‘ میں لکھا گیا ہے تاکہ قاری اِعرابی غلطی سے محفوظ رہے جبکہ فارسی عبارت کو ’’نسخ‘‘ فونٹ میں لکھا گیا ہے تاکہ عربی اور فارسی دونوں میں امتیاز رہے۔
٭…عام عربی عبارت کے علاوہ دعائیہ عربی عبارات کا رسم الخط بھی جدا رکھا گیا ہے تاکہ کتاب پڑھنے والے اِسلامی بھائی اِن دعاؤں کو باآسانی یاد کرسکیں ۔
٭…آیاتِ مبارکہ خوبصورت قرآنی رسم الخط اور منقش بریکٹ (…)میں دی گئی ہیں ۔