خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یعنی اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہتا تو ’’کُنْتُم‘‘ کے بجائے ’’اَنْتُمْ‘‘ فرماتا، پھر ہم تمام لوگ مراد ہوتے، لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ’’کُنْتُمْ‘‘ فرماکر رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو خاص فرمادیا، لہٰذا اب جو بھی ان (صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان )جیسے اعمال کرے گا وہ اس امت میں بہتر شخص کہلائے گا جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں ۔‘‘(1)
حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہمارے سامنے یہی آیت مبارکہ تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا: ’’یَا اَیُّھَا النَّاسُ مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَّكُوْنَ مِنْ تِلْكُم الْاُمَّۃِ فَلْیُؤَدِّ شَرْطَ اللہِ فِیْھَا یعنی اے لوگو! تم میں جو تمام امتوں میں بہتر بننا چاہتاہے اسے چاہیے کہ وہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بیان کردہ شرط (یعنی بھلائی کا حکم دینے، برائی سے منع کرنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لانے) کو پورا کرے۔(2)
(3)…پستی اور بلندی دینے والی:
(خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳)) (پ۲۷، الواقعۃ: ۳) ترجمۂ کنزالایمان: ’’کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلندی دینے والی۔‘‘
حضرت سیِّدُنا ابن جریروابن ابی حاتم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس آیت مبارکہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئےارشاد فرمایا: ’’اَلسَّاعَۃُ خَفَضَتْ اَعْدَاءَ اللہِ اِلَی النَّارِ وَرَفَعَتْ اَوْلِیَاءَ اللہِ اِلَی الْجَنَّۃِیعنی وہ قیامت جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دشمنوں کو جہنم میں جھونک دے گی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دوستوں کو جنت کی طرف لے جائے گی۔‘‘(3)
(4)…برے لوگ، بروں کے ساتھ، نیک لوگ ،نیکوں کے ساتھ:
(وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْﭪ(۷)) (پ۳۰، التکویر:۷) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور جب جانوں کے جوڑ بنیں ۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…درمنثور، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ج۲، ص۲۹۳۔
2…الاستیعاب،مقدمۃ المؤلف،ج۱،ص۱۲۳۔
کنزالعمال، کتاب الاذکار، فصل فی التفسیر، الجزء:۲، ج۱، ص۱۶۲، حدیث: ۴۲۹۰۔
3…کنزالعمال، کتاب الاذکار، فصل فی التفسیر، الجزء:۲، ج۱، ص۲۱۹، حدیث:۴۶۳۸۔