فاروقِ اعظم سے منقول تفسیر قران
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے قرآن پاک کی کثیر آیتوں کی تفسیر منقول ہے، لیکن طوالت سے بچتے ہوئے ’’فاروقِ اعظم‘‘کے ۹حروف کی نسبت سے فقط ۹ آیات کی تفسیر پیش خدمت ہے:
(1)…شہوات سے بچنے والے کے لیے بشارت:
حضرت سیِّدُنا مجاہد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا:’’کیا وہ شخص بہتر ہے جس میں گناہ کرنے کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ ہی وہ گناہ کرے یا وہ بہتر ہے جس میں گناہ کی خواہش تو ہو مگر وہ گناہ کرنے سے بچے؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’جن میں گناہ کی خواہش ہے مگر اس سے بچتے ہیں ان کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے : (اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳)) (۲۶، الحجرات:۳)ترجمۂ کنزالایمان: ’’وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔‘‘(1)
(2)…تمام امتوں میں بہتر لوگ:
(كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ-وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۱۱۰)) (پ۴، آل عمران:۱۱۰)ترجمۂ کنزالایمان: ’’تم بہتر ہو اُن سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر کتابی ایمان لاتے تو اُن کا بھلا تھا اُن میں کچھ مسلمان ہیں اور زیادہ کافر ۔‘‘
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےارشاد فرمایا: ’’لَوْ شَاءَ اللہُ لَقَالَ اَنْتُمْ فَكُنَّا كُلُّنَا وَ لٰكِنْ قَالَ كُنْتُمْ خَاصَّۃً فِیْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ صَنَعَ مِثْلَ صَنِیْعِھِمْ كَانُوْا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر ابن کثیر، پ۲۶،الحجرات، تحت الآیۃ: ۳، ج۷، ص۳۴۴۔