Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
227 - 831
فاروقِ اعظم کا سورۃ النصر کی تفسیرکے متعلق استفسار:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قرآن پاک کی تفسیر کے گہرے علم کا اس بات سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلیل القدر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے قرآن پاک کی مختلف آیات کی تفسیر کے متعلق تفسیری مباحثہ فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے اصحاب سے سورۃ النصر یعنی اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ کی تفسیر پوچھی تو انہوں   نے عرض کیا:’’فَتْحُ الْمَدَائِنِ وَالْقُصُورِ یعنی اس سے مختلف شہروں   اور محلات کی فتح مراد ہے۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے استفسار فرمایا تو میں   نے عرض کیا: ’’اَجَلٌ یعنی اس سے مراد زندگی کی مدت ہے، یا یہ مثال رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے لیے بیان کرکے آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کی خبر دی گئی ہے۔‘‘(1) 
فاروقِ اعظم کی قرآن فہمی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام نجدہ سے روایت ہے کہ ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ کے بازار میں   تھے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک کھجور کا ٹکڑا زمین پر پڑا ہوا نظر آیا،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے اٹھاکر صاف کیا۔ پھر ایک حبشی کو وہ کھجور کا ٹکڑا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اُطْرُحْ هٰذِهٖ فِيْ فِيْكَ یعنی یہ لو منہ میں   ڈال لو۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جو قریب ہی موجود تھے عرض کرنے لگے: ’’اے امیر المؤمنین! یہ کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’یہ کھجور کا ایک ذرہ سا ٹکڑا ہے یا اس سے بڑا ہے؟‘‘ عرض کیا: ’’حضور! یہ ذرے سے بڑا ہے۔‘‘ فرمایا: ’’کیا تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کا مفہوم سمجھتے ہو جس میں   ذرے کا ذکر ہے: (اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ-وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا(۴۰))  (پ۵، النساء:۴۰) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اللہ ایک ذرّہ بھر ظلم نہیں   فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اُسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔‘‘(مراد یہ ہے کہ )کسی کام کی ابتداء ذرہ بھر سے ہوتی ہے مگر اس کا انجام اجر عظیم ہوتا ہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب التفسیر، باب ورایت۔۔۔الخ، ج۳، ص۳۹۱، حدیث:۴۹۶۹۔
2…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۳۱۴۔