فاروقِ اعظم اور علم التفسیر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جب قرآن پاک کی کوئی آیت وغیرہ نازل ہوتی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سامنے اس کی تلاوت فرماتے اور کاتبان وحی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس آیت مبارکہ کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کے مطابق ترتیب سے لکھ لیتے۔ نیز رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بذات خود یا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے استفسار پر اس آیت مبارکہ کی تفسیر بھی بیان فرمادیتے ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ کاتب وحی تھے اور بارگاہِ رسالت میں قرآن پاک کی کتابت کرتے تھے اس لیے یقینا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آیات مبارکہ کے بعد اس کی تفسیر سے بھی مطلع ہوتے تھے اور بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اقدس سے قرآن پاک کی تفسیر پڑھی۔کئی روایات میں تو اس کی صراحت موجود ہے۔ چنانچہ ،
سورۃ البقرہ بارہ سال میں رسول اللہ سے پڑھی:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : ’’تَعَلَّمَ عُمَرُ الْبَقَرَۃَفِیْ اِثْنَتَیْ عَشَرَةَ سَنَۃً فَلَمَّا خَتَمَھَا نَحَرَ جَزُوْرًا یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ سے بارہ سال میں سورۂ بقرہ پڑھی اور جب سورۂ بقرہ مکمل ہوگئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے شکرانے میں ایک اونٹنی ذبح فرمائی۔‘‘(1)
محافل ختم قرآن جائز ہیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا آج کل مدنی منے و مدنی منیوں کے ناظرہ یا حفظ قرآن پاک ختم کرنے پر ’’ختم قرآن کی محافل‘‘منعقد کی جاتی ہیں ، اس میں حمدونعت وبیان اور لنگر وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے، یا نیاز دلائی جاتی ہے یہ تمام اُمور بالکل جائز ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام النبلاء،عمر بن الخطاب،ج۱،ص۵۲۰، الرقم: ۳۔
شرح زرقانی علی الموطا، کتاب القرآن، باب ما جاء۔۔۔الخ، ج۲، ص۲۹، تحت الحدیث:۴۸۰۔