مبارک سے کھجوریں کھائیں اور صبح سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر آپ کا وہ خواب ظاہر ہوگیا۔ (1)
فاروقِ اعظم اور علم القیافۃ
دو مختلف چیزوں (باپ بیٹا، اصل فرع وغیرہ ) میں سے ایک چیز کے بعض معاملات پر مطلع ہونے کے بعد دوسری شے کے معاملات کو خود ہی جان لینے کو ’’علم القیافہ‘‘ کہتے ہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ علم بھی حاصل تھا۔ چنانچہ ،
رشتہ داری کی پہچان:
آپ کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہوا اور سلام کیاتو آپ نے سلام کا جواب دینے کے بعد اس سے استفسار فرمایا: ’’کیا تمہارے اور اہل نجران کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’نہیں ۔‘‘ فرمایا: ’’ضرور ہے۔‘‘اس نے پھر انکار کیا تو فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ضرور ہے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ ہرمسلمان جانتا تھا کہ اس کے اور اہل نجران کے درمیان رشتہ داری ہے لہٰذا ایک شخص نے وضاحت کرتے ہوئے عرض کیا: ’’اے امیر المؤمنین! اس کے اور اہل نجران کے درمیان رشتہ داری ضرور ہے لیکن اس اس واقعے سے قبل تھی۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے فرمایا: ’’مَهْ فَاِنَّا نَقْفُو الْآثَارَ یعنی تم رہنے دو ہمیں نہ بتاؤ، ہمیں نشانیوں سے خود ہی پتہ لگ جائے گا۔‘‘(2)
دو بھائیوں کی پہچان:
حضرت سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے ایک لمبے بالوں والا لحیم، شحیم(لمبا، چوڑا) شخص گزرا ، پھر اس کے پیچھے ایک اور شخص گزاراجو چھوٹے بالوں والا اورکمزور و دبلا پتلا تھا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان دونوں کے متعلق فرمایا: ’’یہ دونوں بھائی ہیں ۔‘‘جب معلوم کیا گیا تو واقعی وہ دونوں بھائی ہی نکلے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفصیلی واقعہ کے لیے اسی کتاب کے صفحہ۱۳۵ کا مطالعہ کیجئے۔
2…طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۲۰۔
3…انساب الاشراف، بن مرۃ بن کعب، عمر بن الخطاب، ج۳، ص۳۷۷۔