Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
224 - 831
 الحانی کے ساتھ اشعار پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابراہیم مروزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  : ’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیِّدُنا ابومسعود انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ تمام حضرات اپنے سفروں   کے دوران خوش الحانی سے اشعار پڑھا کرتے تھے۔‘‘ (1)
فاروقِ اعظم کو اشعار کی تنقیح میں   مہارت تھی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اشعار کی تنقیح یعنی کانٹ چھانٹ کرکے ان کی نوک پلک سنوارنے میں   اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ابن رشیق نے اپنی کتاب ’’اَلعُمدَۃُ فِی مَحَاسِنِ شُعرَائِہِ وَآدَابِہِ‘‘ میں   لکھا ہے کہ: ’’کَانَ مِنْ اَنْقَدِ اَھْلِ زَمَانِہٖ لِلشِّعْرِ وَاَنْفَذِھِمْ فِیْہِ مَعْرِفَۃً یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے زمانے میں   اشعار کے سب سے بڑے نقاد ونفاذ یعنی کانٹ چھانٹ کرنے والے تھے۔‘‘ (2)
فاروقِ اعظم اور علم المکاشفۃ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بارگاہِ رب العزت سے کشف کا بھی علم عطا ہوا تھا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مختلف لوگوں   کے مختلف قلبی احوال پر مطلع ہوجاتے تھے، اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بسا اوقات لوگوں   کے مخفی احوال ظاہر بھی فرمادیتے تھے۔ چنانچہ، 
فاروقِ اعظم پر مولاعلی کا خواب ظاہر ہوگیا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کشف سے متعلق حضرت سیِّدُنا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے ایک پورا باب قائم کیا ہے جس میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کشف سے متعلق کئی واقعات ذکر کیے ہیں   جن میں   مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا بھی ایک نہایت ہی دلچسپ واقعہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رات خواب میں   حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کف الرعاع، ص۳۷، فتاویٰ رضویہ، ج۲۳،ص۳۷۲۔
2…العمدۃ فی محاسن شعرائہ وآدابہ، باب فی آداب اشعار الخلفاء، ص۱۰۔