Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
223 - 831
 زیادہ مشابہ ہو۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور علم القضاء
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس علم القضاء تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم صلاحیت تھی جو یقیناً ہر ایک کا منصب نہیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منصب قضاء کی تمام شرائط کے جامع تھے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تربیت یافتہ عمال اور گورنربھی اس عہدے کو بحسن خوبی سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔بلکہ اگر یوں   کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قیامت تک آنے والے شرعی قاضی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہی کے فیضان کرم سے منصب قضا کی ذمہ داریوں   کو بطریق احسن ادا کرتے رہیں   گے۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار اس امت کے قاضیوں   میں   ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علی بن مدینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  : ’’قُضَاةۃُ الْاُمَّۃِ اَرْبَعَۃٌ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِیٌّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ وَزَیْدٌ بْنُ ثَابِتٍ وَاَبُوْ مُوْسٰی اَلْاَشْعَرِیُّ یعنی امت کے قاضی صرف چار ہیں  : امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم اورعلم الشعر
فاروقِ اعظم علم الشعر کے سب سے بڑے عالم:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الاشعار میں   بھی مہارت تامہ رکھتے تھے، چنانچہ جاحظ نے اپنی کتاب ’’البیان والتبیین‘‘ میں   لکھا ہے: ’’کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَعْلَمُ النَّاسِ بِالشِّعْرِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں   میں   علم الشعر کے سب سے بڑے عالم تھے۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم دوران سفر اشعار پڑھتے تھے:
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بذات خود اشعار بہت ہی کم کہا کرتے تھے۔ اپنے سفروں   میں   بہت ہی خوش
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دار قطنی، کتاب فی الاقضیۃ والاحکام، کتاب عمر۔۔۔الخ، ج۴، ص۲۴۳، حدیث:۴۴۲۵ مختصرا۔
2…تاریخ ابن عساکر، ج۳۲، ص۶۵۔
3…البیان والتبیین، ج۱، ص۲۳۹۔