پیش آئے اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآن وسنت میں اجتہاد کے ذریعے کثیر مسائل اخذ فرمائے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وہ مسائل فقہیہ جو صحیح روایات سے ثابت ہیں ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’وھم چنیں مجتھدین در رؤس مسائل فقہ، تابع مذھب فاروق اعظم اند وایں قریب ھزار مسئلہ باشد تخمینا یعنی مجتہدین کے وہ مسائل فقہیہ جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مسلک کے مطابق ہیں ان کی تعداد تقریباًایک ہزار ہے۔‘‘ (1)
فاروقِ اعظم اور علم اصول الفقہ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہ صرف ہزاروں مسائل کے جزئیات کی تدوین کی بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآن وحدیث سے ان مسائل کو اخذ کرنے کے اصول وضوابط بھی مقرر فرمائے جو آج بھی اصول فقہ کے نام سے تدریسی کتب میں موجود ہیں ۔چاروں مسالک حقہ فقہ حنفی، فقہ شافعی، فقہ حنبلی اور فقہ مالکی کے تمام فقہی مسائل کا دارومدار انہیں اصولوں پر ہے۔ اصول فقہ چار ہیں : قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فقہی مسائل کے استنباط میں خود بھی ان پر عمل کیا اور اپنے تمام ماتحت حاکموں کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔کوئی بھی مسئلہ تلاش کرنا ہوتا تو اوَّلاً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قرآن پاک میں دیکھتے، ثانیاً رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرامین میں ، ثالثا تمام کبار اور فقہاء صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو جمع کرتے اور ان کی رائے معلوم کرتے اور پھر اکثریت پر فیصلہ فرمادیتے اور اگر ان تینوں میں سے کوئی صورت نہ ہوتی تو قیاس کے ذریعے خود ہی مسئلہ اخذ کرکے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سامنے پیش فرمادیتے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قضا کے متعلق جو تحریر بھیجی اس میں یوں تھا: ’’اَلْفَهْمَ اَلْفَهْمَ فِيمَا یَخْتَلِجُ فِیْ صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ یَبْلُغْكَ فِی الْكِتَابِ وَالسُّنَّۃِ اِعْرِفِ الْاَمْثَالَ وَالاَشْبَاہَ ثُمَّ قِسِ الاُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ عِنْدَ اَحَبِّهَا اِلَى اللہِ وَ اَشْبَھِھَا بِالْحَقِّ یعنی اسے اچھی طرح سمجھ لو کہ جس مسئلہ میں تمہیں قرآن وحدیث کا کوئی حکم واضح نہ ملے تو اس کی امثال اور اشباہ پر غور کرو پھر مختلف امور میں قیاس کرو اور پھر اس پر اعتماد کرو جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے زیادہ قریب اور حق کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ازالۃ الخفاء، ج ۳، ص۳۰۴۔