Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
221 - 831
 تھے یعنی وہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  تھے جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے فیض سے قرآن وسنت میں   اجتہاد کرکے خود مسائل اخذ کرلیتے تھے جبکہ بقیہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ان کے شاگر د تھے اور یقیناً وہ تمام بھی امت مسلمہ کی رہنمائی فرماتے تھے۔ورنہ آج پوری دنیا میں   علم کا یہ نور کبھی نظر نہ آتا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ائمہ فقہ فاروقِ اعظم کے تربیت یافتہ تھے:
مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بصرہ، کوفہ اور شام فقہ کے مراکز کہلاتے تھے۔ مکہ مکرمہ میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، مدینہ منورہ میں   حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ و حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، کوفہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ، حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، شام میں   حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علمی فیضان سے لوگ فیضیاب ہوتے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے علاوہ بقیہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تربیت یافتہ تھے۔ 
سیِّدُنا فاروقِ اعظم کے تلامذہ:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خصوصی شاگرد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت میں   ایک گھڑی بیٹھنا میرے نزدیک ایک سال عمل کرنے سے بھی زیادہ مفید ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے مسائل فقہیہ کی تعداد:
چونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں   فتوحات کی بہت کثرت ہوئی اور لوگوں   کو شرعی معاملات بہت زیادہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاستیعاب ،عمر بن الخطاب، ج۳، ص۲۳۹۔