صحابہ کرام میں چھ صحابہ فقہ کے امام تھے:
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایسے تھے جو فقہ کے امام مانے جاتے تھےا ور تمام لوگ مسائل فقہیہ میں ان ہی کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ نیز ان تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مسائل ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے تھے۔ چنانچہ جلیل القدر محدث حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں :
٭…’’كَانَ العلمُ یُؤْخَذُ عَنْ ستَّۃٍ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ یعنی چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایسے تھے جن سے لوگ مسائل وغیرہ پوچھتے اور علم حاصل کیا کرتے تھے۔
٭…’’كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللہ وَزَیْدٌیُشْبِہُ عِلْمُهُمْ بَعْضاً وَكَانَ يَقْتَبِسُ بَعْضُھُمْ مِّنْ بَعْضٍ یعنی ان میں سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان تمام کے مسائل آپس میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے تھےاوریہ ایک دوسرے سے مسائل پر تبادلہ خیال بھی کرتے تھے۔
٭…’’كَانَ عَلِیٌّ وَالْاَشْعَرِیُّ واُبَیٌّ یُشْبِہُ عِلْمُهُمْ بَعْضُھُمْ بِبَعْضٍ وَكَانَ یَقْتَبِسُ بَعْضُهُمْ مِّنْ بَعْضٍ اور ان میں سے امیر المؤمنین مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں اور ان تمام کے مسائل آپس میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے تھے اور یہ ایک دوسرے سے مسائل پر تبادلہ خیال بھی کرتے تھے۔ (1)
ایک اہم وضاحت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا دونوں روایتوں کو پڑھ کر ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تعداد ہزاروں میں ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صرف چار یا چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہی لوگوں کو مسائل بتاتے ہوں یا فقہی سوالات کے جوابات دیتے ہوں ؟ تو واضح رہے کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہی سرچشمۂ ہدایت ہیں ۔البتہ مذکورہ بالا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مجتہد اور فقیہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر، ج۳۲، ص۶۴، تذکرۃ الحفاظ ، ج۱، ص۲۲۔