Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
219 - 831
حفص ‘‘ ہے اور اسی پر قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے۔
فاروقِ اعظم اور علم الفقہ
فاروقِ اعظم دین کے سب سے بڑے فقیہ:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سبب جس قدر مسائل شرعیہ دین اسلام میں   ظاہر اور رائج ہوئے اتنے کسے صحابی کے سبب ظاہر نہ ہوئے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بذات خود علمی سوالات کیا کرتے تھے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے جوابات ارشاد فرماتے ، اسی طرح خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دور میں   بھی آپ کا یہ ہی انداز رہا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی شرعی معاملات ومسائل میں   بھرپور معاونت فرمائی۔ آپ نے بذات خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تمام علوم حاصل کیے تھے اس لیے جب آپ کا دورِ خلافت آیا تو آپ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ فیض خلقِ خدا تک کما حقہ پہنچایا۔جلیل القدر صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دین کا سب سے بڑا فقیہ تسلیم کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں  : ’’اِنَّ عُمَرَ کَانَ اَفْقَھَنَا فِیْ دِیْنِ اللہِ یعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم میں   دین کے سب سے بڑے فقیہ تھے۔‘‘(1)
عہدِ رسالت میں   صرف چار مفتی تھے:
حضرت سیِّدُنا صفوان بن سلیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں  : ’’لَمْ یَكُنْ  یُفْتِی فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ صَلَّی  اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمَ غَیْرَ عُمَرَ وَعَلِیٍّ وَمَعَاذٍ وَاَبِیْ مُوْسٰی یعنی عہدِ رسالت میں   صرف چار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ہی فتوی دیا کرتے تھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ، حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۰، حدیث:۲۱۔
2…تذکرۃ الحفاظ ، ج۱، ص۲۳۔