رکھا۔جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر ان کے گلے میں ڈال لی اور کہا :’’مَنْ اَقْرَاَكَ ھٰذِہِ السُّورَةَ الَّتِیْ سَمِعْتُكَ تَقْرَءُ یعنی یہ سورت تمہیں کس نے ایسے پڑھائی ہے جیسے آج میں نے تم سے سنی ہے؟‘‘وہ کہنے لگے: ’’رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ كَذَبْتَ فَاِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ اَقْرَاَنِیْھَا عَلٰی غیْرِ مَا قَرَاْتَ یعنی تم نے جھوٹ کہا، مجھے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی اور طرح پڑھائی ہے۔‘‘ بہر حال میں انہیں کھینچتا ہوا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں لے آیا اور عرض کیا:’’اِنِّیْ سَمِعْتُ ھٰذَا یَقْرَءُ بِسُورَۃِ الْفُرْقَانِ عَلٰی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِیْھَا یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے اِسے اُس طریقے پر سورۂ فرقان پڑھتے سنا ہے جس پر آپ نے مجھے نہیں پڑھائی۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اسے چھوڑ دو۔‘‘ پھرارشاد فرمایا:’’ اے ہشام! تم پڑھو۔‘‘ انہوں نے آپ کو ویسے ہی پڑھ کر سنا دیاجیسا نماز میں پڑھا تھا۔ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ كَذَلِكَ اُنْزِلَتْ یعنی یہ سورت ایسے ہی اُتری ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اے عمر! تم پڑھو ۔‘‘تو میں نے ویسا ہی سنایا جیسے میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پڑھا تھا۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ كَذَلِكَ اُنْزِلَتْ یعنی یہ سورت ایسے ہی اُتری ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ اُنْزِلَ عَلَى سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ یعنی یہ قرآن پاک سات طریقوں (قراء توں )پر اترا ہے جو تمہیں آسان لگے ویسے ہی پڑھ لو۔‘‘(1)
قرآن پاک کی سات قراءتیں :
یاد رہے نزولِ قرآن کے وقت اکنافِ عرب میں عربی زبان کے سات مختلف لب ولہجے جاری تھے اہلِ نجد کا اپنا لہجہ تھا، بنو اسد کا اپنا طرز تلفظ تھا، اہلِ حجاز عربی الفاظ کو اپنے طریقے سے اداکرتے تھے۔ ایسے میں اگر قرآن کریم کسی خاص لغت پر اتار دیا جاتا اور یہ حکم ہوتا کہ صرف اسی لغت اور لہجے میں قرآن پڑھا جائے دوسرے میں نہیں تویہ امر امت کے لیے مشقت کا باعث ہوتا۔ اس لیے قرآن کریم اِنہی سات معروف لغات پر پڑھنے کی اجازت دے دی گئی جنہیں اب قراء ت سبعہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔برصغیر پاک وہند میں جو قراءت رائج ہے وہ ’’قراءت عاصم بروایت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ،کتاب فضائل القرآن ،باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف،ج۳، ص۴۰۰، حدیث:۴۹۹۲۔