یہ علم وراثت میں ملا تھا، کیونکہ آپ کے قبیلے کے ذمے سفارت تھی جس کے لیے علم الانساب کا جاننا ناگزیر تھا اور یہی وجہ تھی کہ آپ کا قبیلہ علم الانساب میں مہارت رکھتا تھااور یہی مہارت آپ کو اپنے والد سے ورثے میں ملی ۔
فاروقِ اعظم اور علم القراءت
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ کاتب وحی تھےا ور آپ نے قرآن پاک خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پڑھا تھا اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الکتاب اور خصوصاً علم القراءت کے بہت بڑے عالم تھے۔
آپ کی بارگاہ میں قراء حضرات کا مجمع لگا رہتا تھا:
حضرت سیِّدُنا امام زہری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : ’’كَانَ مَجْلِسُ عُمَرَ مُغْتَصًّا عَنِ الْقُرَّاءِ شَبَاباً وَکَھُوْلًا فَرُبَّمَا اِسْتَشَارَھُمْ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دربار نوجوان اور پختہ عمر کے قراء حضرات سے بھرا ہوتاتھا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان سے مشاورت فرماتے رہتے تھے۔‘‘ اور ارشاد فرمایا کرتے تھے:’’لَا یَمْنَعُ اَحَدُكُمْ حُدَاثَۃُ سَنَۃٍ اَنْ یُشِیْرَ بِرَاْیِہٖ فَاِنَّ الْعِلْمَ لَیْسَ عَلَى حُدَاثَۃِ السِّنِّ وَقِدَمِہٖ وَلٰكِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَضَعَہُ حَيْثُ یَشَاءُ یعنی تمہاری کم عمری تمہیں مشورہ دینے سے نہ روکے کیونکہ علم عمر کی کمی یا زیادتی پر موقوف نہیں ہے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے۔‘‘(1)
بیسیوں واقعات ایسے ملتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قرآن پاک کی کوئی غیر معروف قراءت کرتاتو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کی تفتیش فرماتے۔چنانچہ،
اللہ ورسول کے معاملے میں آپ کی شدت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناہشام بن حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دورِ نبوی میں سورئہ فرقان کی تلاوت کرتے سنا توہ وہ ایسی قراءت کررہے تھے جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں نہیں سکھائی تھی، قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان سے الجھ پڑتا لیکن میں نے خود کو روکے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف عبد الرزاق، کتاب الجامع، باب المستشار، ج۱۰، ص۳۶۳، حدیث:۲۱۱۱۱ ملتقطا۔