زبان کی اصلاح کرنے والے کے لیے رحم کی دعا:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چند لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کررہے تھے البتہ ان کے نشانے درست جگہ پر نہیں لگ رہے تھے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’مَا اَسْوَأُرَمْیِكُمْ یعنی تم لوگ کتنی بری تیر اندازی کررہے ہو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’نَحْنُ مُتَعَلِّمِیْنَ یعنی اے امیر المؤمنین ابھی ہم تیر اندازی سیکھ رہے ہیں ۔‘‘ ’’نَحْنُ مُتَعَلِّمِیْنَ ‘‘ عربی گرائمر کے لحاظ سے غلط جملہ تھا، درست ’’نَحْنُ مُتَعَلِّمُوْنَ‘‘تھا، لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’لَحْنُكُمْ اَشَدُّ مِنْ سُوْءِ رَمْیِكُمْ یعنی تمہاری زبان کی غلطی تمہاری تیر اندازی کی غلطی سے زیادہ بری ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا کہ میں نے دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا: ’’رَحِمَ اللہُ اِمْرَاًاَصْلَحَ مِنْ لِّسَانِہٖ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنی زبان کی اصلاح کرے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور علم المعرفت
فاروقِ اعظم سب سے زیادہ معرفت الہی رکھنے والے:
حضرت سیِّدُنازید بن وہب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :’’اِنَّ عُمَرَ كَانَ اَعْلَمَنَا بِاللّٰہِ وَاَقْرَاَنَا لِكِتَابِ اللہِ وَاَفْقَهَنَا فِیْ دِ یْنِ اللہِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہم میں سب سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والے ، قرآن کی تلاوت کرنے والے اوردین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے تھے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم اور علم الانساب
علم الانساب کی مہارت ورثے میں ملی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الانساب میں بھی ماہر تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب العلم، فی فضلہ والتحریض علیہ، الجزء:۱۰، ج۵، ص۱۱۱، حدیث:۲۹۳۴۳۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب الفضائل،ماذکرفی فضل عمر بن خطاب ،ج۷، ص۴۸۰، حدیث:۲۱۔