Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
215 - 831
علم الفرائض قرآن کی طرح سیکھو:
 حضرت سیِّدُنا مورق عجلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’تَعَلَّمُوا السُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ وَاللَّحْنَ كَمَا تَعَلَّمُوْنَ الْقُرْآنَ یعنی تم سنن وعلم الفرائض اور زبان ایسے سیکھو جیسے قرآن پاک سیکھتے ہو۔‘‘ (1)
علم الفرائض سیکھنا دین سے ہے:
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:’’تَعَلَّمُوا اللَّحْنَ وَالْفَرَائِضَ فَاِنَّہُ مِنْ دِیْنِكُمْ یعنی زبان اور علم الفرائض سیکھو کہ یہ بھی تمہارے دین میں   سے ہے۔‘‘ (2)
فاروقِ اعظم  کی  عربی زبان میں   مہارت
فاروقِ اعظم کی عربی زبان میں   مہارت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہوسکتا ہے کسی کو یہ بات بہت ہی عجیب وغریب لگے کہ ’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عربی زبان کے ماہرتھے۔‘‘کیونکہ وہ تو تھے ہی عربی النسل تو کیسے عربی کے ماہر نہ ہوتے؟ لیکن ایسا نہیں   ہے کیونکہ نسلی عربی ہونا اور بات ہے اور عربی میں   مہارت رکھنا اور بات۔ جیسے کسی شخص کا اردو زبان بولنا اور بات ہے اور اس میں   مہارت ہونا اور بات ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بذات خود لوگوں   کو عربی زبان سیکھنے اور اس میں   مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔ چنانچہ،
عربی زبان کی سمجھ بوجھ حاصل کرو:
 حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ عَلَیْكُمْ بِالتَّفَقُّہِ فِی الدِّیْنِ وَالتَّفَھُّمِ فِی الْعَرَبِیَّۃِ وَحُسنِ الْعباَرۃِ یعنی تم پر لازم ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرو اور عربی تحریر اور گفتگو کو اچھا کرو۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دارمی، کتاب الفرائض، باب فی تعلیم الفرائض، ج۲، ص۴۴۱، حدیث: ۲۸۵۰۔
2…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب فضائل القرآن، ما جاء فی اعراب القرآن، ج۷، ص۱۵۰، حدیث: ۱۵۔
3…فضائل القرآن لابی عبید،باب اعراب القرآن ۔۔۔الخ،ص۳۵۰۔