Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
214 - 831
سامنے ظاہر ہوئی کیونکہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مفتوحہ علاقوں   میں   وسعت ہوئی اور ان علاقوں   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مقرر کردہ عمال اور گورنروں   کی تعداد میں   اضافہ ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ان سے رابطے کا ایک ذریعہ تحریر بھی تھا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گورنروں   کو ہر طرح کی اصلاحی وسیاسی تحریریں  لکھا کرتے تھے جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علم التحریر کا منہ بولتا ثبوت ہیں  ۔
فاروقِ اعظم اور علم التقریر
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم التقریر کے بھی بڑے ماہر تھے، آپ ایک بہترین مقرر تھے، اور آپ کی ذات مبارکہ میں   یہ ملکہ زمانہ جاہلیت سے ہی موجود تھا، سیرت نگاروں   نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ آپ عکاظ کے میلوں   میں   تقریری مقابلوں   میں   بھی حصہ لیا کرتے تھے۔ ایک بہترین مقرر کے اندر جو صفات ہونی چاہیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اندر وہ تمام صفات بدرجہ اتم موجود تھیں  ۔
فاروقِ اعظم اور علم الخطبات
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر علوم کے ساتھ ساتھ علم الخطبات یعنی خطبے دینے کے علم میں   بھی مہارت رکھتے تھے اور آپ کی پوری خلافت پر اگر نظر ڈالی جائے تو آپ کے خطبات کی کئی اَقسام اُبھر کر سامنے آجاتی تھی، آپ کے خطبات میں   اِصلاحی خطبات، علمی خطبات، سیاسی خطبات، فکری خطبات، نظری خطبات قابل ذکر ہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مختلف خطبات پڑھنے کے لیے اسی کتاب کا موضوع ’’ملفوظات فاروقِ اعظم‘‘صفحہ۲۶۴ملاحظہ کیجئے۔
فاروقِ اعظم اور علم الفرائض
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الفرائض (یعنی علم المیراث) میں   بھی کامل دسترس رکھتے تھے، بیسیوں   مسائل ایسے ہیں   جن میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اجتہاد فرماکر ان مسائل کو اخذ فرمایا جن کی تفصیل کتب فقہ میں   موجود ہے، نہ صرف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الفرائض میں   ماہر تھے بلکہ لوگوں   کو بھی اس کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔ چنانچہ،