Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
213 - 831
 المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مراد یہ تھی کہ ہم نے دو وجہوں   سے اس دن کو عید بنا لیا کیونکہ یہ دن یوم عرفہ تھا اور یوم جمعہ بھی تھا اور ان میں   سے ہر دن مسلمانوں   کے لیے عید ہی ہے۔‘‘(1)
صدر الافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس حدیث مبارکہ کی شرح بیان کرتے ہوئے مذکورہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۳ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں   ارشاد فرماتے ہیں  : ’’ آپ (یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔ ترمذی شریف میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہبن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں   تھیں   جمعہ و عرفہ ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابہ سے ثابت ہے ورنہ(امیر المؤمنین) حضرت(سیِّدُنا) عمر(فاروقِ اعظم) و (حضرت سیِّدُنا عبداللہ) بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں   ۔ اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اعظمِ نِعَمِ الٰھیہ (یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں   میں   سے سب سے بڑی نعمت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔‘‘
تم اہل قرآن کہلانے لگو:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’تَعَلَّمُوْا كِتَابَ اللہِ تَعَرَّفُوْا بِہٖ وَاعْمَلُوْا بِہٖ تَكُوْنُوْا مِنْ اَھْلِہٖ یعنی قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرو، اس کی معرفت حاصل کرو اور اس پر ایسا عمل کرو کہ تم عامل قرآن کہلانے لگو۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم اور علم التحریر
لکھنا پڑھنا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے زمانہ جاہلیت میں   ہی سیکھ لیا تھا ، یہی وجہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عہدِ رسالت کے کاتب وحی بھی تھے، البتہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تحریرآپ کے دورِ خلافت میں   بہت زیادہ نکھر کر لوگوں   کے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح نووی،کتاب التفسیر، الجزء:۱۸، ج۹، ص۱۵۳۔
2…مصنف ابن ابی شیبۃ،کتا ب فضائل القرآن ،فی التمسک بالقرآن،ج۷،ص۱۶۵، حدیث: ۸۔