Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
212 - 831
 اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمہیں   پڑھایا۔‘‘(1)
سب سے بڑے عالم کی صحبت:
حضرت سیِّدُنا خالد اسدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت اختیار کی تو میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بڑھ کرکسی کو قرآن پاک کا عالم ،دین کا فقیہ اور مدرس نہیں   دیکھا۔‘‘ مزید فرماتے ہیں  :’’سیِّدُنا  فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رحلت سے علم کے دس ۱۰حصوں   میں   سے نو۹ حصے جاتے رہے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کی لاجواب قرآن فہمی :
حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ یہود میں   سے ایک شخص (یعنی حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہنے لگے: ’’ قرآن میں   ایک ایسی آیت ہے کہ اگر وہ ہمارے دین میں   اترتی تو اس آیت کے  نازل ہونے کے دن کو ہم بطور عید منایا کرتے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’وہ کون سی آیت ہے؟‘‘کہنے لگے: (اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-) (پ۶،المائدۃ:۳)ترجمۂ کنزالایمان: ’’آج میں   نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’مجھے معلوم ہے کہ یہ کب اور کہاں   نازل ہوئی تھی۔ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عرفات میں   موجود تھے اور جمعہ کا دن تھا جب یہ آیت کریمہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل ہوئی۔ ‘‘(3)
حدیث مبارکہ کی شرح:
حضرت علامہ یحییٰ بن شرف الدین نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس حدیث پاک کی شرح میں   ارشاد فرماتے ہیں  : ’’امیر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۰، حدیث:۲۱۔
	معجم کبیر،عبداللہ بن مسعود الھذلی، ج۹، ص۱۶۱، حدیث:۸۸۰۳ ملتقطا۔
2…ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۲۲۔
3…بخاری ،کتاب الایمان ،زیادۃ الایمان ونقصانہ،ج۱، ص۲۸، حدیث:۴۵، مسلم، کتاب التفسیر، ص۱۶۰۹، حدیث:۵۔