Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
211 - 831
٭ …’’یہ تینوں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے سربستہ راز(یعنی وحی وغیرہ) لکھا کرتے تھے۔‘‘
٭ …’’جب رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چچا حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لاتے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی جگہ خالی کردیتے اور وہ ان کی جگہ تشریف فرما ہوتے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور علم کتاب اللہ
فاروقِ اعظم کتاب اللہ کے عالم اور فقیہ:
حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  : ’’ دو آدمیوں   کے مابین ایک آیت مبارکہ کی قراءت میں   اختلاف ہوگیا، اتنے میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے، دونوں   نے اپنا معاملہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   پیش کیاتو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے شخص سے فرمایا کہ تمہیں   یوں   کس نے پڑھایا؟ اس نے عرض کیا کہ حضرت سیِّدُنا ابو عمرہ معقل بن مقرن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے۔ پھر دوسرے سے استفسار فرمایا تو اس نے عرض کیاکہ مجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پڑھایاہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اتنا روئے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آستین آنسوؤں   سے بھیگ گئیں   اور میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے رونے کے سبب آنسوؤں   کے نشانات دیکھے۔‘‘ پھر سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا: ’’مَا اَظُنُّ اَھْلَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِینَ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْھِمْ حُزْنُ عُمَرَ یَوْمَ اُصِیْبَ عُمَرُ اِلَّا اَھْلَ بَیْتِ سُوءٍ  اِنَّ عُمَرَ كَانَ اَعْلَمَنَا بِاللّٰہِ وَاَقْرَاَنَا لِكِتَابِ اللہِ وَاَفْقَهَنَا فِیْ دِیْنِ اللہِاِقْرَاْ ھَا كَمَا اَقْرَاَ کَھَا عُمَرُ یعنی میں   اس گھر والوں   کو بہت برا سمجھتا ہوں   جنہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے دن ان کی وفات کا صدمہ نہ پہنچا۔ بے شک آپ ہم میں   سب سے زیادہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والے، کتاب اللہ کے سب سےبڑے قاری اور  دین الٰہی کے سب سے بڑے فقیہ تھے، تم اس آیت کو ویسا ہی پڑھا کرو جیسا سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب الفضائل، عباس بن عبد المطلب، الجزء:۱۳، ج۷، ص۲۲۴، حدیث:۳۷۳۴۸۔