Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
210 - 831
فاروقِ اعظم جامع شرائط مفتی تھے:
حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں  : ’’اِنَّمَا  یُفْتِی النَّاسَ ثَلاَثۃٌ رَجُلٌ اِمَامٌ اَوْ وَالِیٌ اَوْ رَجُلٌ یَعْلَمُ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنَ الْمَنْسُوخِ یعنی لوگوں   کو صرف تین لوگ فتویٰ دے سکتے ہیں  : یا تو امام المسلمین یا حکومتی عہدے داریا وہ شخص جو قرآن پاک کے ناسخ ومنسوخ کا علم جانتا ہو۔‘‘ لوگوں   نے عرض کیا: ’’حضور! ایسا کون شخص ہے جس میں   یہ شرائط پائی جاتی ہوں  ؟‘‘ فرمایا: ’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور کتابت وحی
علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  ارشاد فرماتے ہیں  :’’ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کئی اصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایسے ہیں   جو کاتب وحی تھےبعض کے اسماء یہ ہیں  :(۱) حضرت سیِّدُنا ابو بكر صدیق (۲) حضرت سیِّدُنا عمرفاروق (۳) حضرت سیِّدُنا عثمان غنی (۴) حضرت سیِّدُنا علي المرتضی (۵) حضرت سیِّدُنا ابي بن كعب (۶) حضرت سیِّدُنا زيد (۷) حضرت سیِّدُنا امیرمعاويہ (۸) حضرت سیِّدُنا حنظلہ بن ربيع (۹) حضرت سیِّدُنا خالد بن سعيد بن عاص (۱۰) حضرت سیِّدُنا ابان بن سعيد (۱۱) حضرت سیِّدُنا علاء بن حضرمي ۔رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  ۔(2)
فاروقِ اعظم رسول اللہ کے بائیں   طرف بیٹھتے تھے:
حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد حضرت سیِّدُنا امام محمد باقر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اور وہ اپنے دادا حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں   :
٭ … ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جب تشریف فرما ہوتے تو حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ کے دائیں   جانب بیٹھتے اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بائیں   جانب بیٹھتے تھے اور حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے سامنے بیٹھتے تھے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دارمی،باب فی الذی یفتی۔۔۔الخ، ج۱، ص۷۳، حدیث:۱۷۱۔
2…کشف المشکل من حدیث الصحیحین، ج۱، ص۳۷۲۔