Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
21 - 831
بھی مواد کو ترتیب دیتے وقت کئی ایسی عبارتیں   سامنے آئیں   جن میں   مختلف نسخوں   کی وجہ سے اختلاف پایا گیا لہٰذا اُن عبارتوں   کی روایت و درایت دونوں   اعتبار سے قدیم نسخوں  (مخطوطات) کی مدد سے تفتیش کی گئی اور پھر مشاورت سے درست عبارت کو لے لیا گیا نیز اُس عبارت کا حوالہ دیتے ہوئے اُس نسخے کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔
(6)…عبارات کی تخریج:
سابقہ اَدوار میں   لوگ حصول علم کے لیے لمبے لمبے سفر طے کرتے تھے، احادیث کی اَسناد ووغیرہ پر انہیں   ایسی مہارت ہوتی کہ اگر کسی کے سامنے کوئی حدیث صحیح سند کے ساتھ کتاب کا حوالہ بیان کیے بغیر ذکر کردی جاتی تو وہ فوراً سمجھ جاتا، لیکن جوں   جوں   لوگ علم سے دور ہوتے گئے بغیر حوالے کے کوئی بات کرنا دشوار ہوتا گیا۔ بعض اوقات حوالے کے بغیر بیان کردہ صحیح روایات کوبھی لوگ کم علمی کی بنا پر رد کردیتے ہیں   نیز کم علمی کی بنا پر بعض لوگوں   نے کئی موضوع ومن گھڑت روایات کو بھی بیان کرنا شروع کردیا لہٰذا آج کے دور میں   کوئی بھی حدیث مبارکہ، صحابی کا فرمان ، بزرگ کا قول یا کوئی بھی روایت بغیر مستند حوالے کے بیان کرنا خطرے سے خالی نہیں  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ’’فیضانِ فاروق اعظم‘‘ میں   بھی مختلف آیات مبارکہ، احادیث مبارکہ، اقوال صحابۂ کرام وبزرگان دین وغیرہا کی تخاریج کا التزام کیا گیا ہے۔ تخاریج کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیاہے:
٭…عربی کتاب کی عربی اور اردو کتاب کی اردو رسم الخط میں   تخریج دی گئی ہے البتہ عربی کتب میں   اُن کے اصل اور طویل عربی نام کے بجائے معروف اور مختصر نام دیے گئے ہیں  ۔
٭…تخریج میں   کتاب کا مکمل حوالہ (کتاب، باب، فصل، نوع، رقم الحدیث، جلد اور صفحہ وغیرہ کے ساتھ )اس طرح دیا گیا ہے کہ پڑھنے والا باآسانی اُس مقام تک پہنچ سکتا ہے۔
٭…تخریج کرتے ہوئے جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے، موضوعات کے اعتبار سے اُن کے اسماء، شہر طباعت ،مصنفین کے اَسماء باعتبار تاریخ وفات کی تفصیل آخر میں   ’’فہرست ماخذ ومراجع ‘‘میں   دے دی گئی ہے۔
٭…اگر کسی وجہ سے ایک کتاب کے دو مختلف مطبوعہ نسخوں   کا حوالہ دیا گیا ہے تو اُن دونوں   نسخوں   کی نشاندہی بھی آخر