ہی جواب ارشاد فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ بعد میں میں نے اپنے والد سے اس بات کا اظہار کیا کہ مجھے اس سوال کا جواب آتا تھا لیکن میں آپ لوگوں کی وجہ سے نہ بول سکاتو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آئندہ کے لیے میرا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’لَاَنْ تَكُونَ قُلْتَھَا اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ یَكُونَ لِیْ كَذَا وَكَذَا یعنی اے بیٹے! اگر تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے اپنے جواب کا اظہار کردیتا تو یہ مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب تھا۔‘‘(1)
سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس کی حوصلہ افزائی:
ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خود ہی لوگوں سے ایک آیت مبارکہ کی تفسیر کے متعلق استفسار فرمایا تو لوگوں نے انکار کیا لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شاگرد رشید حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا کہ اس کے متعلق میرے ذہن میں کچھ ہے۔تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان سے ارشاد فرمایا: ’’ یَا ابْنَ اَخِیْ قُلْ وَلَا تَحْقِرْ نَفْسَكَ یعنی اے میرے بھتیجے! اگر تمہیں معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنے آپ کو حقیر (یعنی چھوٹا) نہ سمجھو۔‘‘ (2)
فاروقِ اعظم اور علم الافتاء
فاروقِ اعظم زمانۂ نبوی کے مفتی تھے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا:’’مَنْ كَانَ یُفْتِی النَّاسَ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں کون فتوے دیا کرتا تھا؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا:’’اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُمَا اَعْلَمُ غَیْرَھُمَایعنی میں صرف دوشخصیات حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں فتوی دیاکرتاہو۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب الامثال، ما جاء فی مثل المؤمن۔۔۔الخ، ج۴، ص۳۹۶، حدیث:۲۸۷۶۔
2…بخاری، کتاب تفسیر القرآن، قولہ ایود احدکم۔۔۔الخ، ج۳، ص۱۸۵، حدیث:۴۵۳۸۔
3…اسد الغابۃ،عبد اللہ بن عثمان ابوبکر ، ج۳، ص۳۳۰۔