غَالِبُ قَضَایَاہُ وَفَتَاوَاہُ مُتَّبَعَۃٌ فِیْ مَشَارِقِ الْاَرْضِ وَمَغَارِبِھَایعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ میں سے یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے اصحاب کے ساتھ علمی مذاکرے ومناظرے فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ معاملہ بالکل واضح اور صاف ہوجاتا یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فیصلوں اور فتاویٰ کی مشرق ومغرب میں دھوم تھی۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کم سن اصحاب کا حوصلہ بڑھاتے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف علمی مباحثے کو پسند فرماتے اور علمی مناظرے فرماتے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حلقۂ احباب میں جو اصحاب حصول علم میں دلچسپی لیتے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے۔خصوصاً حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ دونوں ہمہ وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زیر تربیت رہتے تھے۔چنانچہ،
سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر کی حوصلہ افزائی:
ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے ،ساتھ ہی آپ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو مخاطب کرکے ایک سوال پوچھااور ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَایَسْقُطُ وَرَقُهَا وَھِیَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ حَدِّثُونِیْ مَاھِیَ یعنی اے میرے صحابہ! بیشک ایک درخت ہے، جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مومن کی مثل ہے، بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے؟‘‘حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :’’وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ اَنَّهَا النَّخْلَۃُ یعنی میرے دل میں اس کا جواب آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موجودگی میں بولنے سے جھجک محسوس کی کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اتنے جلیل القدر صحابہ خاموش ہیں تو میں کیوں بولوں ؟‘‘ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حجۃ اللہ البالغۃ،باب کیفیۃ تلقی۔۔۔الخ، ص۱۳۲۔