عام لوگوں کو حصول علم دین کی ترغیب:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:
٭… ’’تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوْ ہُ النَّاسَ علم خود بھی حاصل کرو اور لوگوں کو بھی علم سکھاؤ۔‘‘
٭…’’وَتَعَلَّمُوا لَہُ الْوَقَارَ وَالسَّكِیْنَۃَاور علم کے لیے وقار اور سکینہ سیکھو۔‘‘
٭…’’وَتَوَاضَعُوْا لِمَنْ تَعَلَّمْتُم مِّنْہُ الْعِلْمَ اور جس سے تم علم سیکھو اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔‘‘
٭…’’وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ عَلَّمْتُمُوْہُ الْعِلْمَ اور جنہیں تم علم سکھاؤ ان کے سامنے بھی عاجزی اختیار کرو۔‘‘
٭…’’وَلَا تَكُوْنُوْاجَبَابِرَةَالْعُلَمَاءِ فَلَایَقُوْمُ عِلْمُكُمْ بِجَھْلِكُم اور متکبر عالم نہ بنو کہ تمہارا علم جہالت کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔‘‘ (1)
قرآن کے حافظ اور علم کے چشمے بن جاؤ:
حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’كُوْنُوْا اَوْعِیَۃَ الْكِتَابِ ویَنَابِیْعَ الْعِلْمِ، وَعُدُّوْا اَنْفُسَكُم مِّنَ الْمَوْتٰى، وَاسْاَلُوْا اللہَ رِزْقاً یَوْماً بِیَوْمٍ، وَلَا یَضُرُّكُمْ اِنْ یَكْثُرُ لَكُمْ یعنی قرآن کے حافظ اور علم کے چشمے بنو، اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرواور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے ہر دن نیا رزق مانگو ، پھر اگر تمہیں زیادہ مل جائے تو تمہیں نقصان نہیں دے گا۔‘‘ (1)
فاروقِ اعظم کا اپنے اصحاب سے علمی مذاکرہ:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ اپنے اصحاب سے علمی مذاکرات ومناظر ے کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ شاہ ولیُّ اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں : ’’کَانَ مِنْ سِیْرَۃِ عُمَرَ اَنَّہُ کَانَ یُشَاوِرُ الصَّحَابَۃَ وَیُنَاظِرُھُمْ حَتّٰی تَنْکَشِفُ الْغُمَّۃُ وَیَاْتِیْہِ الثَّلْجُ فَصَارَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان للبیھقی،باب فی نشر العلم،ج۲،ص۲۸۷ ، حدیث:۱۷۸۹۔
2…الزھد للامام احمد، زھد عمر بن الخطاب، ص۱۴۸، الرقم: ۶۳۲۔