عاشوراء کے دن قید سے نکالا گیا۔‘‘٭’’حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن توبہ قبول فرمائی۔‘‘٭’’حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کو عاشوراء کے دن بادشاہی عطا کی گئی۔‘‘٭’’قیامت بھی عاشوراء کے دن ہی قائم ہوگی۔‘‘٭’’آسمان سے پہلی بارش بھی عاشوراء کے دن ہی ہوئی۔‘‘(1)
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف خود علم دین حاصل کیا کرتے تھے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دلایا کرتے تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے حصول علم دین سے متعلق کئی اقوال موجود ہیں ۔ چنانچہ،
حکمرانوں کو علم دین سیکھنے کی نصیحت:
حضرت سیِّدُنا احوص بن حکیم بن عمیر عنسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگی لشکروں کے سپہ سالاروں کے نام مکتوب لکھا اور ارشاد فرمایا:’’تَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ فَاِنَّہُ لَا یُعْذَرُ اَحَدٌ بِاتِّبَاعِ بَاطِلٍ وَھُوَیَرٰى اَنَّہُ حَقٌّ وَلَا یُتْرَكُ حَقٌّ وَھُوَ یَرٰى اَنَّہُ بَاطِلٌ یعنی دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرو، کیونکہ جہالت کے سبب باطل کو حق سمجھ کر اس کی اتباع کرنے اور حق کو باطل سمجھ کر اسے ترک کرنے کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘(2)
سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری کو مکتوب:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف ایک مکتوب لکھا اور حمد وصلاۃ کے بعد ارشاد فرمایا: ’’تَفَقَّهُوْا فِی السُّنَّۃِ وَتَفَقَّهُوْا فِی الْعَرَبِیَّۃِ وَاَعْرِبُوا الْقُرْآنَ فَاِنَّہُ عَرَبِیٌّ وَتَمَعَّدَدُوْافَاِنَّكُمْ مَّعْدِیُّوْنَ یعنی سنت میں سمجھ بوجھ پیدا کرو اور عربی زبان کو اچھی طرح سیکھو اور قرآن پاک کو عربی لہجے میں پڑھو کہ وہ عربی ہے اور اپنے آپ کو طاقتور بناؤ کہ تم معد بن عدی کی اولاد ہو۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بستان الواعظین ، مجلس فی فضل یوم عاشوراء، ص۲۲۸۔
2…کنزالعمال، کتاب العلم، فی فضلہ والتعریض علیہ، الجزء:۱۰، ج۵، ص۱۱۱، حدیث:۲۹۳۳۵۔
3…مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب فضائل القرآن ،ما جاء فی اعراب القرآن ،ج۷،ص۱۵۰،حدیث:۳۔