زیادہ بہتر ہے۔‘‘ (1)
تمام لوگوں کا علم ایک سوراخ میں سما جائے:
حضرت سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا شمر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کرتےہوئے فرماتے ہیں : ’’لَكَاَنَّ عِلْمَ النَّاسِ كَانَ مَدْسُوسًا فِیْ جُحْرٍ مَعْ عِلْمِ عُمَرَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علم کے مقابلے میں تمام لوگوں کا علم اتنا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے سوراخ میں سما جائے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم دو تہائی علم لے گئے:
حضرت سیِّدُنا عمرو بن میمون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ذَهَبَ عُمَرُ بِثُلُثَیِ الْعِلْمِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دو تہائی علم لے گئے۔‘‘ (3)
فاروقِ اعظم اور حصول علم دین
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علم کی یہ دولت بارگاہِ رسالت سے ہی عطا ہوئی تھی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآن وحدیث کا علم خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہی حاصل کیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حصول علم دین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ گاہے بگاہے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے علمی سوالات وغیرہ کرتے ہی رہتے تھے، اور اس معاملے میں بے شمار احادیث مبارکہ موجود ہیں چنانچہ ،
فاروقِ اعظم کا اعتکاف کی نذر کے متعلق سوال:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اعتکاف کی نذر کے بارے میں سوال کیا جو آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاستیعاب، عمربن الخطاب، ج۳، ص۲۳۹۔
2…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۶، حدیث:۵۵۔
3…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۲۸۶۔