بہت بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علم کی دولت بارگاہِ رسالت سے عطا ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادےحضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’میں سویا ہوا تھا ،خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ دودھ سے لبالب ایک پیالہ مجھے پیش کیا گیا۔ میں نے اس سے پیا اور اتنا سیر ہوگیا کہ مجھے یوں لگا جیسے میرے ناخنوں کے نیچے بھی اس دودھ کی تری پہنچ گئی ہے۔ بچا ہوا دودھ میں نے عمر فاروق کو دے دیا۔‘‘لوگوں نے عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ نے اس سے کیا مفہوم لیا ہے؟ فرمایا: ’’ علم۔‘‘(1)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علم کے بارے میں حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تین ارشادات پیش خدمت ہیں :
(1)فاروقِ اعظم کا علم تمام قبائل عرب کے علم سے زیادہ وزنی:
٭…’’لَوْ وُضِعَ عِلْمُ اَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِیْ كِفَّۃِ مِیْزَانٍ وَوُضِعَ عِلْمُ عُمَرَ فِیْ كِفَّۃٍ لَرَجَحَ عِلْمُ عَمَرَ یعنی اگر عرب کے تمام قبائل کا علم میزان کے ایک پلڑے میں اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ والا پلڑا بھاری رہے گا۔‘‘(2)
(2)علم کے نو حصے فاروقِ اعظم کے پاس ہیں :
٭…’’لَقَدْ كَانُوْا یَرَوْنَ اَنَّہُ ذَھَبَ بِتِسْعَۃِ اَعْشَارِ الْعِلْمِ یعنی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تو سمجھتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم کے دس میں سے نو حصے اپنے ساتھ لے گئے۔‘‘ (3)
(3)ایک سال علم حاصل کرنے سے زیادہ افضل:
٭…’’لَمَجْلِسٌ كُنْتُ اَجْلِسُہُ مَعَ عُمَرَ اَوْثَقُ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ عَمَلِ سَنَۃٍ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایک علمی حلقے میں شرکت کرنا میرے نزدیک ایک سال عمل کرنے سے بھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم ،فضائل الصحابہ ،من فضائل عمر، ص۱۳۰۳، حدیث:۱۶۔
2…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الفضائل، باب ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۳، حدیث:۳۶۔
3…الاستیعاب، عمربن الخطاب، ج۳، ص۲۳۹۔