(1)تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :’’ قیامت کے دن پکارنے والاپکارے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا میں فقراء ومساکین مریضوں کی عیادت کرتے تھے۔‘‘پس (جب وہ حاضرہوں گے تو)انہیں نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا جہاں یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے شرفِ کلام حاصل کریں گے جبکہ لوگ حساب دے رہے ہوں گے۔‘‘(1)
(2)حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ:’’جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس سے اپنے لئے دعا کی درخواست کرو کیونکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہوتی ہے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم اور لواحقین سے تعزیت
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمانوں کی غم خواری فرماتے۔اگر کسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازے میں بھی ضرور شرکت فرماتے۔نیز میت کے قریبی رشتے داروں سے تعزیت بھی فرماتے۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک نیک پرہیزگار نوجوان کی قبر پر تشریف لے جانے والا واقعہ بہت ہی مشہور ہے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس نوجوان کو جانتے تھے اور اس کی عبادات پر تعجب فرماتے تھے، بعد ازاں اس کا رات کے وقت انتقال ہوگیا اور اس کے گھر والوں نے راتوں رات اس کا جنازہ وغیرہ پڑھ کے دفنا دیا ۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے گھر والوں سے شکوہ کیا کہ تم لوگوں نے مجھے کیوں نہ بتایا، انہوں نے رات کا عذر کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس نوجوان سے گفتگو فرمائی۔ (3)
فاروقِ اعظم اور مختلف علوم
فاروقِ اعظم کو بارگاہِ رسالت سے علم عطا ہوا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قرآن وحدیث کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جمع الجوامع،الیاء مع الصاد،ج۹،ص۲۵۶،حدیث:۲۸۵۷۳ملتقطا۔
2…ابن ماجہ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی عیادۃ المریض ،ج۲، ص۱۹۱، حدیث:۱۴۴۱۔
3…تاریخ ابن عساکر، ج۴۵، ص۴۵۰، حجۃ اللہ علی العالمین، المطلب الثالث فی ذکر جملۃ ۔۔۔الخ، من کرامات عمر، ص۶۱۲ مختصرا۔
اس واقعے کی تفصیل کے لیے اسی کتاب کا موضوع’’کراماتِ فاروقِ اعظم ‘‘ ملاحظہ کیجئے۔