Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
200 - 831
فاروقِ اعظم اور مریضوں   کی عیادت
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی غم خوار تھے اور قلبی طور پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس قدر رحم دل اور شفیق تھے کہ کسی مسلمان کا چھوٹی سےچھوٹی تکلیف میں   مبتلا ہونا بھی گوارا نہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ ہر وقت مسلمانوں   کی غم خواری اور امت کی خیر خواہی میں   مشغول رہتے تھے۔ مصروف ترین شخصیت ہونے کے باوجود اپنے بیمار اصحاب کی عیادت کرنا بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادات مبارکہ میں   شامل تھا۔
بارگاہِ رسالت میں   مریض کی عیادت کا اقرار:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے مختلف اعمال کے بارے میں   استفسار فرمایاجن میں   مریض کی عیادت کا بھی ذکر تھا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   اقرار کیا کہ: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   نے مریض کی عیادت کی ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم مولاعلی کی عیادت کے لیے گئے:
ایک بار مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  بیمار ہوگئے، جب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم ہوا تو انہوں   نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   سے ارشاد فرمایا کہ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیمار ہوگئے ہیں   ، ہمیں   ان کی عیادت کے لیے ضرور جانا چاہیے۔ چنانچہ تینوں   مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے گھر پہنچے اور پھر وہاں   نہایت ہی دلچسپ مدنی مکالمہ ہوا۔(2)
مریضوں   کی عیادت سے متعلق مرویات:
 اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مریضوں   کی عیادت سے متعلق کئی مرویات بھی ہیں  ۔ چنانچہ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند امام احمد ،مسند انس بن مالک ،ج۴، ص۲۳۷، حدیث:۱۲۱۸۲۔تفصیلی روایت کے لیے اسی کتاب کا صفحہ ۱۵۰ملاحظہ کیجئے۔
2… روح البیان،پ۱۳، الرعد، تحت الآیۃ:۳۱، ج۴، ص۳۷۷۔
یہ دلچسپ مدنی مکالمہ پڑھنے کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضان صدیق اکبر‘‘ ص ۱۶۸کا مطالعہ کیجئے۔