Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
20 - 831
 کرام سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔
(4)…عربی عبارات کا تقابل:
عبارت کو غلطی سے محفوظ کرنے کے لیے اس کا تقابل کرنا (یعنی جس اصل کتاب سے وہ عبارت لی گئی ہے اس کے مطابق کرنا)بہت ضروری ہے، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقل در نقل ایک غلطی آگے منتقل ہوتی رہتی ہےلیکن جب اُس کے اَصل ماخذ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے تو وہاں   وہ عبارت موجود ہی نہیں   ہوتی یا منقولہ عبارت کے مطابق نہیں   ہوتی۔ یہ غلطی عموماً تقابل نہ کرنے اور فقط ’’نقل‘‘ پر اعتماد کرنے سے واقع ہوتی ہے۔’’فیضانِ فاروقِ اعظم‘‘ میں   عربی عبارات کے تقابل کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیاہے:
٭…عربی کتب سے جوترجمہ کیا گیا ہے اُس کا اصل کتاب سے انتہائی احتیاط کے ساتھ تقابل کیا گیا ہے۔
٭…اگر کسی عبارت کے ترجمے میں   اُردو کتاب سے معاونت لی گئی ہے تو اُس کا اَصل عربی کتاب سے بھی بالاستیعاب تقابل کرلیا گیا ہے۔
٭…عبارت ذکر کرنے کے بعد جس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے اُسی کتاب سے تقابل کیا گیا ہے۔
٭…قرآنی آیات اور اُن کے ترجمے کابھی اصل نسخے سے تقابل کرلیا گیا ہے۔
(5)…عربی عبارات کی تفتیش:
کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے جہاں   پوری دنیا میں   ایک حیرت انگیز انقلاب آیاہے وہیں   کتب کی طباعت میں   بھی اُس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپیوٹر سے پہلے کتابیں   ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں   جن میں   وقت بہت لگتا تھا لیکن جیسے ہی کمپیوٹر آیا اس سے مصنفین وناشرین کو سب سے بڑا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ قلیل وقت میں   کثیر کتب کی طباعت ہونے لگی۔ لیکن واضح رہے کہ اِس کا ایک نقصان یہ بھی ظاہر ہوا کہ پروف ریڈنگ کی اَغلاط پہلے کی بہ نسبت اب زیادہ ہونے لگیں  ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات مختلف کمپیوٹرائزڈ کتب کے جدید اور قدیم نسخوں   کی عبارتوں   میں   بھی کافی فرق آجاتا ہے۔ اِس فرق کو واضح یا دور کرنے کے لیے قدیم نسخوں   کی مدد سے عربی عبارات کی تفتیش کی جاتی ہے۔ ’’فیضانِ فاروقِ اعظم‘‘ میں