Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
199 - 831
کے منافی ہو شرعا ممنوع ہے۔ آج کل اس بات کا بہت کم خیال رکھا جاتاہے اور بعض نادان لوگ تومساجد میں   اتنی بلند آواز سے گفتگو کرتے نظر آتے ہیں   گویا اپنے گھر یا بازار میں   گفتگو کررہے ہوں  ، ایسے لوگوں   کے لیے لمحہ فکریہ ہے،نیزبعض حضرات نابالغ اور ناسمجھ بچوں   کوبھی اپنے ساتھ مساجد میں   لاتے ہیں   جومسجد میں   گھومتے پھرتے اور شوروغل مچاتے ہیں   یادرکھیے کہ مساجد میں   بچوں   ، پاگلوں   وغیرہ کا داخلہ ممنوع ہے۔چنانچہ سلطان مدینہ ، قرار قلب وسینہ، فیض گنجینہ، صاحب معطر پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمان باقرینہ ہے: ’’مسجدوں   کو بچوں   ،پاگلوں   ، خریدوفروخت ، جھگڑے ، آواز بلند کرنے ، حدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ۔‘‘(1) 
علامہ ابن عابدین شامی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  : ’’ایسا بچہ جس سے نجاست(یعنی پیشاب وغیرہ کردینے) کا خطرہ ہو اور پاگل کو مسجد کے اندر لے جانا حرام ہے اگر نجاست کا خطرہ نہ ہوتو مکروہ۔‘‘ جو لوگ جوتیاں   مسجد کے اندر لے جاتے ہیں   ان کو بھی اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ اگر نجاست لگی ہوتو صاف کرلیں   اور جوتا پہنے مسجد میں   چلے جانا بے ادبی ہے۔(2)
بچے یا پاگل یا بے ہوش یا جس پر جن آیاہوا ہو اس کو دم کروانے کے لیے بھی مسجد میں   لے جانے کی شریعت میں   اجازت نہیں  ۔ واضح رہے کہ مساجد کو جس طرح شوروغل سے بچانا ضروری ہے ویسے ہی اسے بدبوسے بچانا بھی بے حد ضروری ہے۔احادیث مبارکہ میں   مساجد کو خوشبودار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔چنانچہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   سے روایت ہے فرماتی ہیں  : ’’حضور پرنور شافع یوم النشور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے محلوں   میں   مسجدیں   بنانے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ صاف اور خوشبودار رکھی جائیں  ۔‘‘ (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابن ماجۃ، کتاب المساجد، ما یکرہ۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۱۵، حدیث: ۷۵۰۔
2…درمختار وردالمحتار، ج۲، ص۵۱۸۔
3…ابو داود، کتاب الصلاۃ، اتخاذ المساجد فی الدور، ج۱، ص۱۹۷، حدیث:۴۵۵۔
مسجدوں   کو خوشبودار رکھنے کے متعلق دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ ۳۲صفحات پر مشتمل شیخ طریقت، امیر اہلسنت ،بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے ’’مسجدیں   خوشبودار رکھیے‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔