Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
198 - 831
سے کم ہو اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے۔(1)
مسجد کا ادب واحترام کرو:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے مسجد میں   ایک شخص کی بلند آواز سنی ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو مسجد میں   اس کا چلانا بہت معیوب لگا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے سرزنش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’کیا تجھے معلوم ہے کہ تواس وقت کہاں   ہے؟‘‘(یعنی تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر مسجد میں   ہے اور مسجد کا ادب واحترام یہ ہے کہ یہاں   آواز پست رکھی جائے۔)(2)
مسجد میں   آواز بلند کرنا منع ہے:
حضرت سائب بن یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   :’’میں   مسجد میں   موجود تھا اور وہیں   دو شخص بلند آواز سے گفتگو کررہے تھے۔اچانک کسی نے مجھےکنکری ماری ،جب میں   نے کنکری مارنے والے کی طرف دیکھا تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  تھے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا:’’جائو اور ان دونوں   کو میرے پاس لے آئو۔‘‘میں   نے فوراًحکم کی تعمیل کی اور ان دونوں   کو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگا ہ میں   پیش کردیا،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان دونوں   سے ارشاد فرمایا: ’’تم کون ہواور کہاں   سے آئے ہو؟‘‘انہوں   نے جواب دیا: ’’ہمارا تعلق طائف سے ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا:’’تم حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مسجد میں   آوازیں  بلند کرتے ہو،اگر مدینے کے رہائشی ہوتے تومیں   تمہیں   ضرور سزا دیتا۔‘‘(3)
مساجد کا ادب واحترام کیجئے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مساجد کا ادب واحترام ہر شخص پر لازم ہے، مساجد خالصتاً دینی امور، نماز، اعتکاف ذکر اللہ، تلاوتِ قرآن وغیرہ کے لیے بنائی گئی ہیں  ۔ان میں   شورو غل کرنایا کوئی بھی ایسا کام جو مسجد کے ادب واحترام 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بہارشریعت، ج۳، حصہ۱۶، ص۴۲۶۔
2…مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الصلاۃ،فی رفع الصوت فی المساجد،ج۲،ٓص۳۰۹،حدیث:۲۔
3…بخاری ،کتاب الصلوۃ ،باب رفع الصوت فی المساجد،ج۱، ص۱۷۸، حدیث:۴۷۰۔