عَنْہ سے فرمایا: ’’کوئی حساب کتاب کا ماہر آدمی لائیں جو ہماری مدد کیا کرے۔ ‘‘وہ ایک عیسائی کو لے آئے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اے ابو موسیٰ! اس سے تو بہتر ہے ہم دونوں مل کر حساب کتاب کرلیا کریں ۔میں نے تم سے وہ شخص مانگا تھا کہ جو ہماری امانت میں شریک ہو(یعنی حساب کتاب بالکل درست کرے اس میں کسی قسم کی خیانت نہ کرے) اور تم ایسے شخص کو لے آئے جس کا دین میرے دین کا مخالف ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اورشرعی احکام کی پاسداری
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شرعی احکاما ت کی پاسدار ی میں اس چاند کی مانند ہیں جس کی چمکتی دمکتی روشنی گمراہی میں بھٹکے لوگوں کی راہنمائی کرتی ہے ،احکام شریعت کا پابند بنا تی ہے،نیکی کی دعوت دینے میں اعانت کرتی ہے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جس طرح خود احکام شریعت کی پابند ی فرماتے ایسے ہی اپنے ماتحت افراد کو بھی نیکی کی دعوت دے کرشریعت کا پابند بناتے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی انفرادی واجتماعی کوشش سے کئی لو گ فرائض ونوافل پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ سنتوں کے بھی عامل بن جاتے۔چنانچہ،
چاندی کی انگوٹھی پہنو:
ایک مرتبہ دو شخص امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں حاضرہوئے،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان میں سے ایک کے ہا تھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو ارشاد فرمایا: ’’کیا تم لوگ سونے کی انگوٹھیاں پہنتے ہو؟‘‘تودوسرے شخص نے جواب دیا:’’میری انگوٹھی تو لوہے کی ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ناگواری کااظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’یہ لوہے کی انگوٹھی تو اس سے زیادہ بدبودار اور خبیث ہے،پھر دونوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’اگر تمہیں انگوٹھی پہننی ہی ہے تو چاند ی کی انگوٹھی پہنو۔‘‘(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صدر الشریعہ بدرالطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے، صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے، جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۶۲۔
2…طبقات کبری،ابوموسی الاشعری،ج۴،ص۸۶۔