جیسی ہوگی اور آنکھیں ایسے ہوں گی جیسے اچک لینے والی بجلی۔‘‘عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! جس حالت پر دنیا سے ہمارا انتقال ہوگا کیا قبر میں اسی حالت پراٹھائے جائیں گے؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ہاں ! اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ۔‘‘ عرض کیا: ’’پھرتومیں انہیں کافی ہوں گا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اورغیر مسلموں سے کنارہ کشی
جسے اللہ نے ذلیل کیا اُسے عزت کیوں دیتے ہو:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو حکم دیا کہ وہ لین دین کے تمام معاملات لکھ کر پیش کریں ۔ ان کا کاتب نصرانی تھا، اس نے تمام معاملات لکھ دیے اور سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ فاروقی میں پیش کردیا۔ آپ کو اس کی لکھائی کی مہارت دیکھ کر بہت تعجب ہوا مگر آپ کے علم میں نہ تھا کہ وہ کاتب عیسائی ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’ تمہارا کاتب کہاں گیا، اسے اندر لاؤ تاکہ وہ مسجد میں لوگوں کے سامنے یہ تحریر پڑھ کر سنائے۔‘‘حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عرض کرنے لگے: ’’یا امیر المومنین! وہ مسجد میں نہیں آسکتا۔‘‘ فرمایا:’’کیوں ؟ وہ جنبی ہے کیا؟‘‘ عرض کیا: ’’نہیں !وہ کاتب عیسائی ہے ۔‘‘ یہ سننا تھا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں آگئے اور سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بہت ڈانٹا اور فرمایا: ’’تم انہیں اپنے قریب نہ کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں دور کیا ہے۔ تم انہیں عزت نہ دو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں ذلت دی ہے اور تم انہیں امن دے رہے ہو جب کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر خوف ڈالا ہے۔ میں نے تمہیں اہل کتاب یعنی غیر مسلموں کو عہدے دینے سے روکا ہے، کیونکہ وہ رشوت لیناجائز سمجھتے ہیں ۔‘‘(2)
بے دین شخص ہمارا امانت دار نہیں ہوسکتا:
ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…البعث لابی داود،ص۸،حدیث:۷۔
2…سنن کبری ،کتاب الجزیۃ،لایدخلون مسجدابغیر اذن،ج۹، ص۳۴۳، حدیث:۱۸۷۲۷، ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۶۲۔