طرح ہیں ۔ وہ اپنے بالوں میں زمین پر تیرتے آتے ہیں ۔(یعنی سارا وجود بالوں سے چھپا ہوتا ہے گویا بالوں کا مجموعہ زمین پر تیرتا آرہا ہے) ہر ایک کے ہاتھ میں اتنا وزنی ہتھوڑا ہوتا ہے کہ تمام جن و انس مل کر اسے اٹھا نہیں سکتے۔ وہ دونوں قبر والے سے سوال کرتے ہیں کہ’’ مَنْ رَّبُکَ یعنی تیرا رب کون ہے؟ مَنْ نَبِیُّکَ یعنی تیرا نبی کون ہے اور مَا دِیْنُکَ یعنی تیرا دین کیا ہے ؟‘‘ یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! جب وہ میرے پاس آئیں گے تو کیا میں اسی طرح صحیح سالم رہوں گا جیسے اب ہوں ؟‘‘فرمایا: ہاں ۔‘‘عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! پھر تو میں انہیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے خوب جواب دوں گا۔‘‘سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! اس رب
عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے مجھے حق دے کر بھیجا! مجھے جبریل امین نے بتایا ہے کہ وہ دونوں فرشتے جب تمہاری قبر میں آئیں گے اور سوالات کریں گے تو تم یوں جواب دو گے کہ میرا رب اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے مگر تمہارا رب کون ہے؟ میرا دین اسلام ہے مگر تمہارا دین کیا ہے؟ میرے نبی تو محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں مگر تمہارا نبی کون ہے؟ وہ کہیں گے: بڑی تعجب کی بات ہے، ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں یا تم ہماری طرف بھیجے گئے ہو؟‘‘(1)
(2) حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یوں مروی ہےکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس وقت ہمارا حال کیا ہوگا؟‘‘ فرمایا: ’’جیسا اب ہے۔‘‘ عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! پھر تو میں انہیں کافی ہوں گا۔‘‘(2)
منکر نکیر اور فاروقِ اعظم :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہارے پاس منکر ونکیر اس حالت میں آئیں گے کہ وہ دانتوں سے زمین کریدتے ہوں گے، ان کے لمبے بال گھسٹتے ہوں گے، ان کی آواز کڑکتی بجلی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۴۶۔
2…اتحاف الخیرۃ المھرہ ،کتاب الجنائز، السوال فی القبر وماجاء، ج۳، ص۲۶۹، حدیث:۲۶۷۱ ملتقطا۔