ساکِن ہو گا ،مگر عقل سلامت ہو گی ، لوگوں کو جاتا دیکھ رہے ہوں گے، ان کے قدموں کی چاپ سن رہے ہوں گے ۔
آہ !آہ! آہ! بے نَمازیوں ،ماہِ رَمَضان کے روزے بِلا عذرِ شرعی نہ رکھنے والوں ، زکوٰۃ دینے سے کترانے والو ں ، فلمیں ڈِرامے دیکھنے والوں ، گانے باجے سننے والوں ، ماں باپ کوستانے والوں ، مسلمانوں کی بلااجازتِ شَرعی دل آزاریاں کرنے والوں ، چوریاں ڈکیتیاں کرنے و الوں ، لوگوں کو دھمکی آمیزچِٹھّیاں بھیج کر رقموں کا مطالبہ کرنے والوں ، جیب کترو ں ، لوگوں کی زمینیں دبا لینے والوں ، بے بس ہاریوں کا خون چوسنے والوں ،اِقتِدار کے نشے میں بد مست ہو کر ظلم و ستم کی آندھیاں چلانے والوں ، اپنی صحّت و دولت کے نشے میں بد مست ہو کر گناھوں کا بازار گرم کرنے والوں کو ہو سکتا ہے اِس ظاہِری زندگی میں کوئی قبر میں بند نہ کر سکے تاہم عنقریب یعنی چند سال،چند ماہ ، چند دن بلکہ عین ممکن ہے چند گھنٹوں کے بعد موت آ سنبھا لے اور ان کو قبر میں اکیلا بند کر دیا جائے !
موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ
جان جا کر ہی رہے گی یاد رکھ
قبر میں میِّت اُترنی ہے ضَرور
جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضَرور
کاش! ہم سب دنیا میں رہتے ہوئے قبر کی تیاری کرلیں ، گناہوں میں ملوث ہو کر اپنی قبر کو اندھیری کوٹھری بنانے کے بجائے نیکیاں کرکے اسے روشن کرنے والے بن جائیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
فاروقِ اعظم اور نکیرین کے سوال
عمر فاروق اور نکیرین سے سوال:
(1) مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ جب مردہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو وہاں دو فرشتے منکر ،نکیر آجاتے ہیں جو تند خو اور سخت دل ہیں ، جن کے چہرے ایسے نیلے اور سیاہ ہیں جیسے تاریکی ہوتی ہے۔ ان کی آوازیں گرجتی بجلی کی مانند، آنکھیں گرنے والے ستاروں کی طرح اور دانت نیزوں کی