Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
192 - 831
 پاس لايا گيا ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کھانے میں   اور اس کو ہمارے شہر میں   لانے والے دونوں  میں   برکت عطافرمائے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے ساتھ موجود کسی شخص نے کہا:’’اے امير المؤمنين رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! يہ ذخيرہ کيا گيا ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے دریافت فرمایا: ’’کس نے ذخيرہ کيا ہے؟‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عرض کی:’’فَرُّوخ(حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے آزاد کردہ غلام ) اور فلاں   نے، جوآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا غلام ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے دونوں   کو بلا بھيجا، وہ دونوں   حاضر ہوئے تو فرمایا:’’تمہيں   مسلمانوں   کے کھانے کو روکنے کا اختيار کس نے ديا ہے؟‘‘ انہوں   نے عرض کی:’’اے امير المؤمنين رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ !ہم اپنے اموال سے خريدتے اور بيچتے ہيں  ۔‘‘ حضرت سيدنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:ميں   نے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو يہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:’’جس نے مسلمانوں   پر ان کا کھانا روک ليا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کوڑھ اور افلاس ميں   مبتلا کردے گا۔‘‘ پس اسی وقت حضرتِ سیِّدُنا فروخ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:’’اے امير المؤمنين رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! ميں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آپ سے عہد کرتا ہوں   کہ آئندہ کبھی بھی کھانے کو ذخیرہ نہ کروں   گا۔‘‘ لہٰذا انہوں   نے اسے مصر کی طرف بھيج ديا جبکہ حضرت سيدنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے آزاد کردہ غلام نے کہا:’’ہم اپنے اموال سے خریدتے اور بیچتے ہیں  ۔‘‘ بہرحال حضرت سیِّدُنا ابو یحییٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (اس روایت کے راوی) فرماتے ہیں   :’’میں   نے امیر المؤمنین حضرت سيدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے اس غلام کو کوڑھ کی بیماری میں   مبتلا دیکھا ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اورقبر کے احوال
ہمیں   قبر کیا نقصان دے گی؟
حضرتِ سیِّدُنا عَطاء بن یَسَار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  :رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیرُالمؤ منین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے فرمایا: ’’ اے عمر! جب آپ کا انتقال ہو گا تو کیا حال ہو گا! آپ کی قوم آپ کو لے جائے گی اور آپ کے لئے تین گز لمبی اور ڈیڑھ گز چوڑی قَبْر تیار کریں   گے۔ پھر واپَس آکر آپ کو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند امام احمد  ،مسند عمر بن الخطاب،ج۱، ص۵۵، حدیث:۱۳۵۔