فاروقِ اعظم کی جرأت وبہادری
فاروقِ اعظم نے ایک جن کومقابلے میں پچھاڑ دیا:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایک صحابی کی ایک جن سے ملاقات ہوئی،دونوں میں کشتی ہوئی تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی نے اس جن کو پچھاڑ دیا۔جن نے دوبارہ لڑنے کی دعوت دی تو اس بار بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی نے جن کو پچھاڑ دیا۔ صحابی نے بڑے حیرانگی سے جن سے پوچھا: ’’ تم بڑے لاغر اور کمزور ہو، تمہاری کلائیاں کتے جیسی ہیں ، کیا سارے جنات ایسے ہی ہوتے ہیں یا صرف تم ہی ایسے ہو؟‘‘جن کہنے لگا:’’خدا کی قسم! میں تو جنات میں کافی موٹا تازہ ہوں ۔ چلو ایسا کرتے ہیں ایک بار پھر کشتی کر کےدیکھتے ہیں ،اب کی بار بھی اگر تم نے مجھے پچھاڑ دیا تو میں تمہیں ایک بہت ہی کام کی بات بتاؤں گاجو تمہیں بہت فائدہ دے گی۔‘‘چنانچہ دونوں میں ایک بار پھر کشتی ہوئی اور اس بار بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی نے جن کو پچھاڑ دیا تو صحابی نے جن سے کہا:’’اب بتاؤ تم مجھے کیا بات بتانا چاہتے تھے؟‘‘جن نے کہا: ’’ تمہیں آیت الکرسی آتی ہے؟‘‘ صحابی نے جواب دیا:’’جی ہاں ۔‘‘ جن کہنے لگا:’’ رات کو اگرکسی گھر میں آیت الکرسی پڑھ لی جائے تو صبح تک کوئی شیطان جن اس گھر میں داخل نہیں ہوسکے گابلکہ وہ اس گھر سے شریر گدھے کی طرح دور بھاگ جائے گا۔‘‘
یہ واقعہ سُن کرکسی نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا :’’وہ صحابی کون تھے؟ کہیں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو نہیں تھے؟‘‘فرمایا:’’اُن کے سوا اور کون ہوسکتا ہے؟‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور نیکی کی دعوت
امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں منقول ہے کہ ايک دفعہ کچھ کھانا مسجد کے دروازے کے پاس رکھا ہوا تھا، جب امير المؤمنين حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ باہر نکلے توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت فرمایا:’’يہ کھانا کيسا ہے؟‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:’’يہ کھانا شہر کے باہر سے ہمارے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم کبیر،عبداللہ بن مسعودالھذلی، ج۹، ص۱۶۶، حدیث:۸۸۲۶۔